غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی امور اسیران میڈیا نے اس امر کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل کی جانب سے نافذ کی جانے والی انتظامی حراست کی پالیسی بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح اور سنگین خلاف وگرتزی ہے اور اس جابرانہ پالیسی کا نشانہ خصوصاً محافظہ رام اللہ کے باشندوں کو تیزی سے بنایا جا رہا ہے جو ان فلسطینی علاقوں میں شامل ہے جہاں اس ظالمانہ طرزِ عمل کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔
اسیران میڈیانے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید انتظامی اسیران کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3385 تک پہنچ چکی ہے جو مجموعی فلسطینی اسیران کا 36 فیصد سے زائد بنتی ہے۔ یہ اعداد و شمار قابض صہیونی دشمن ریاست کی منظم سفاکیت اور فلسطینی عوام کے خلاف کھلی جنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بیان میں نشاندہی کی گئی کہ صرف رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر سے ہی تقریباً 38 فلسطینی شہری قابض اسرائیل کی جیلوں میں انتظامی حراست کے تحت قید ہیں۔
اسیران میڈیا نے دو کم عمر بھائیوں احمد ابو علیا 19 سال اور محمد ابو علیا 18 سال کے کیس کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کو کم سنی کے باوجود مسلسل جبری انتظامی حراست کا سامنا ہے حالانکہ انہیں شدید طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق دورانِ حراست دونوں بھائیوں کو تشدد تذلیل اور جان بوجھ کر طبی غفلت کا نشانہ بنایا گیا۔
اسیران میڈیا نے واضح کیا کہ انتظامی اسیران قابض اسرائیل کی جیلوں میں نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں ان کی قید کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں رکھی جاتی اور خفیہ فائلوں کی بنیاد پر انہیں الزامات سے لاعلم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا دفاع بھی نہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تشدد اور دانستہ طبی لاپروائی کی پالیسی مسلسل جاری ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ اس ظالمانہ پالیسی کا تسلسل فلسطینی اسیران کے خلاف ایک سنگین قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔
اسیران میڈیا نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور فلاحی اداروں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ انتظامی حراست کی پالیسی کا خاتمہ ہو اور فلسطینی اسیران کے انسانی حقوق اور جان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
