Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

دس ہزار شہداء غزہ کے ملبے تلے، رائد الدہشان نے ہنگامی مدد کی اپیل کی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ گورنری میں سول ڈیفنس کے سربراہ اور قانونی ماہر بریگیڈیئر رائد الدہشان نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی مسلسل نسل کش جنگ کے سائے میں سول ڈیفنس آج اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ صرف شہریوں اور ان کے گھروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے امدادی ٹیموں، دفاتر اور آلات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث ادارے کی عملی صلاحیت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

الدہشان نے بتایا کہ بھاری مشینری اور جدید آلات کی آمد پر مسلسل پابندی کے باعث غزہ میں ملبے تلے دبے تقریباً دس ہزار شہداء کی لاشیں نکالی نہیں جا سکیں۔ ان کے مطابق اگر ضروری وسائل فراہم کر دیے جائیں تو یہ کام محض تین ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے، مگر آلات کی عدم دستیابی اس المیے کو برسوں پر محیط ایک کھلے زخم میں تبدیل کر دے گی۔ انہوں نے یہ بات فلسطین آن لائن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آلات کی فراہمی پر پابندی برقرار رہی تو لاشوں کی نکاسی کا عمل انتہائی سست ہو جائے گا اور ممکن ہے یہ دس سال سے بھی زیادہ عرصے تک پھیل جائے، جس سے ہزاروں خاندان اذیت ناک انتظار اور نہ ختم ہونے والے دکھ کے اسیر بنے رہیں گے۔

صلاحیتیں ختم، وسائل ناپید

الدہشان نے وضاحت کی کہ جنگ سے قبل بھی سول ڈیفنس محض پینتالیس فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا تھا، جس کی وجہ سترہ برس سے زائد عرصے پر محیط محاصرہ اور جدید آلات کی عدم اجازت تھی۔ جارحیت میں اضافے کے بعد سول ڈیفنس اپنے پچاسی فیصد آلات سے محروم ہو چکا ہے اور آج محض پانچ سے سات فیصد حقیقی صلاحیت کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیمیں انتہائی ابتدائی وسائل کے ساتھ اور اکثر ہاتھوں سے کام کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، ہائیڈرولک سیڑھیاں، ایمبولینسز، پانی کے ٹینکر اور بھاری مشینری تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جو کنکریٹ کے بڑے ڈھانچوں کو ہٹانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ گورنری جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا علاقہ ہے، وہاں اب صرف ایک فائر بریگیڈ گاڑی، ایک ریسکیو گاڑی اور ایک ایمبولینس باقی رہ گئی ہے، جبکہ جنگ سے قبل یہاں مکمل اور جدید گاڑیوں کا ایک پورا بیڑا موجود تھا۔

بھاری انسانی قیمت

رائد الدہشان نے انکشاف کیا کہ سول ڈیفنس اپنے انسانی فرائض کی ادائیگی کے دوران ایک سو بیالیس شہداء کی قربانی دے چکا ہے، جن میں اکثریت ایسے ماہرین کی تھی جن کے پاس پندرہ سے تیس سال کا تجربہ تھا۔ اس کے علاوہ تین سو باون اہلکار شدید زخمی ہوئے، جن میں سے کئی اعضاء کی کٹائی، مستقل معذوری اور سنگین زخموں کے باعث ہمیشہ کے لیے خدمت سے باہر ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ سے قبل غزہ میں سول ڈیفنس کے اہلکاروں کی تعداد آٹھ سو سے نو سو کے درمیان تھی، مگر اس شدید انسانی نقصان نے ادارے کے پیشہ ورانہ توازن اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں جنیوا معاہدوں کے تحت حاصل تحفظ کے باوجود براہ راست نشانہ بنیں، حالانکہ وہ فلوروسینٹ وردیاں پہنے ہوئے تھیں اور ریڈ کراس اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ پیشگی رابطہ بھی موجود تھا۔

تباہ مراکز اور مجبوری میں پھیلاؤ

الدہشان نے بتایا کہ غزہ میں سول ڈیفنس کے تمام سترہ مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، جن میں غزہ شہر کے پانچ بڑے مراکز بھی شامل ہیں۔

رفح کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آبادی کے انخلا کے باعث وہاں سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں، جبکہ اہلکاروں کو خان یونس اور وسطی علاقوں میں ضم کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی خطرات اور محاذی علاقوں کے قریب ہونے کے باعث پھیلاؤ محدود کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سول ڈیفنس بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں بلکہ زمینی حقائق کی سختی کے تحت ایک ہنگامی اور غیر منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔

ملبے تلے لاشیں، وداع کے بغیر

لاشوں کے معاملے پر الدہشان نے بتایا کہ اب تک صرف تین سو پچاس لاشیں نکالی جا سکی ہیں، جبکہ ہزاروں تاحال ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لاشوں کی شناخت خاندانوں کو معلوم ہے، مگر وقت گزرنے اور بروقت رسائی نہ ہونے کے باعث اکثر صرف ہڈیوں کے باقیات ہی مل پاتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ بلڈوزروں اور بھاری مشینری کی عدم موجودگی کے باعث ملبہ ہٹانے کا عمل نہایت سست ہے۔ بعض اوقات امدادی اہلکار ملبے تلے دبے افراد کی آہیں سنتے ہیں مگر انہیں بچانے سے قاصر رہتے ہیں، جبکہ اس سفاکیت کی قیمت صرف عام شہری ادا کرتا ہے۔

گرنے کے دہانے پر عمارتیں

الدہشان نے خستہ حال عمارتوں کے خطرے کی جانب بھی توجہ دلائی خصوصاً سردیوں کے موسمی دباؤ کے دوران اور بتایا کہ حالیہ عرصے میں درجنوں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں، جن کے نتیجے میں شہداء اور زخمی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نہ ہونے کے باعث بہت سے شہری ایسی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں یا غیر محفوظ خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ سول ڈیفنس آلات کی قلت کے باعث نہ تو انہیں گرا سکتا ہے اور نہ محفوظ بنا سکتا ہے۔

فوری انسانی اپیل

آخر میں رائد الدہشان نے زور دیا کہ سول ڈیفنس ایک خالص انسانی ادارہ ہے جس کا کوئی سیاسی کردار نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور فلسطینی سرکاری حلقوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ آلات، مشینری، ایندھن اور لاجسٹک مدد فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کی مدد دراصل زندگی کی مدد ہے، اور اس ادارے کو بحال کرنا ہزاروں جانیں بچانے اور انتہائی سخت حالات میں انسانی فریضہ ادا کرنے کے مترادف ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan