غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں دو روز قبل زخمی ہونے والا ایک فلسطینی بدھ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا، جبکہ دوسری جانب قابض افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل 172 ویں روز بھی جاری ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق محمد فواد ابو محسن بدھ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، وہ دو روز قبل جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے علاقے مواصی میں قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ اتوار کو قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے مواصی خان یونس میں دو مقامات پر فلسطینیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 8 شہری شہید اور 4 زخمی ہوئے تھے۔
اسی تناظر میں آج علی الصبح خان یونس شہر کے جنوبی علاقوں میں قابض اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔
قابض اسرائیل کی توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ التفاح پر گولہ باری کی، جو کہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہے۔
وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں 4 شہدا اور 12 زخمیوں کو غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
وزارت نے اپنے روزانہ کے بیان میں کہا کہ شہدا کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑی ہے، جبکہ ایمبولینس عملہ اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں اب تک ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ 10 اکتوبر سنہ 2024ء کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہدا کی کل تعداد 713 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,940 اور ملبے سے نکالی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 756 تک پہنچ گئی ہے۔
مجموعی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس جارحیت کے آغاز سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 72,289 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 172,040 ریکارڈ کی گئی ہے۔
قابض افواج گذشتہ 10 اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس میں توپ خانے سے گولہ باری، فضائی حملے، فوجی گاڑیوں اور بحری بیڑوں سے فائرنگ کے ساتھ ساتھ غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں اور تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ بھی شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ سے زائد انسانوں کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، گزرگاہیں بند ہیں اور فوجی اقدامات سخت کرتے ہوئے طبی و انسانی امداد کی فراہمی کو بھی روکا جا رہا ہے۔
