خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں اور قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ زخمی اس وقت ہوئے جب غاصب دشمن نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری کی اور رہائشی مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے علاقے مواصی میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور توپ خانے کی بمباری کے نتیجے میں ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ اسی طرح قابض اسرائیل کی فائرنگ سے دو مزید شہری زخمی ہوئے جن میں سے ایک کو شہر غزہ کے محلہ زیتون میں مسجد علی کے قریب نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرا شہری وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ کے مشرق میں زخمی ہوا۔
سیز فائر کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے باوجود قابض اسرائیلی افواج نے میدانی سطح پر اشتعال انگیزی جاری رکھتے ہوئے خان یونس کے مشرق میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کو بڑے پیمانے پر بارود سے اڑانے کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ قبل ازیں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری سفاکیت کے نتیجے میں 4 شہدا اور 12 زخمی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہدا کی تعداد تقریباً 713 ہو چکی ہے۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین نسل کشی کی مجموعی تعداد کے مطابق شہدا کی کل تعداد 72,289 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,040 ہو چکی ہے۔ طبی ذرائع نے نوجوان محمد فؤاد ابو محسن کی شہادت کا بھی اعلان کیا ہے جو دو دن قبل مواصی خان یونس میں بمباری کے دوران زخمی ہوئے تھے۔
