انقرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں وزیر خارجہ حاقان فیدان سے اہم ملاقات کی ہے۔
حماس کے اس وفد میں غزہ کی پٹی میں تحریک کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ، مغربی کنارے میں تحریک کے سربراہ قائد زاہر جبارین اور تحریک کے سیاسی ونگ کے رکن ڈاکٹر ماہر صلاح شامل تھے۔
ملاقات کے دوران فریقین نے غزہ کی پٹی پر مسلسل جاری قابض اسرائیل کی جارحیت اور قابض دشمن کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسلسل انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل سیز فائر معاہدے میں طے شدہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انحراف کر رہا ہے جو کہ ایک سنگین صورتحال ہے۔
’تحریک‘ کے وفد نے مغربی کنارے میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور دہشت گردی، گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسجد اقصیٰ کی مسلسل ناکہ بندی اور قابض صہیونی دشمن کی جانب سے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں موجود اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری جیسے اہم معاملات پر بھی روشنی ڈالی۔
دونوں جانب سے اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کرے۔ مزید برآں غزہ، مغربی کنارے، القدس اور جیلوں کے اندر فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی سفاکیت اور جرائم کو روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔
حماس کے وفد نے ترکیہ کی حکومت، عوام اور صدر رجب طیب ایردوآن کا شکریہ ادا کیا جو فلسطینی کاز کی حمایت اور نصرت کے لیے مختلف عالمی فورمز اور میدانوں میں انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
