غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی ونگ کے رکن حسام بدران نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسلح آباد کاروں کی کارروائیاں ایک ایسی کھلی جنگ میں بدل چکی ہیں جس کا مقصد اپنی زمین پر فلسطینی عوام کے وجود کو نشانہ بنانا اور ایک خطرناک حقیقت مسلط کرنا ہے، جو فوری طور پر ایک قومی تحریک کا تقاضا کرتی ہے۔
حسام بدران نے اپنے ایک بیان میں نشانہ بننے والے علاقوں میں موجود فلسطینیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان نوجوانوں اور عوامی گروپوں کی جرات و بہادری کو سراہا جو آباد کاروں کے حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے گاؤں و املاک کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان جانبازوں کو زمین اور وقار کے دفاع کی پہلی دفاعی لائن قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلہ مختلف دیہاتوں اور قصبوں میں قومی کمیٹیوں اور عوامی حفاظتی کمیٹیوں کو مضبوط کرنے کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے اور قابض اسرائیل کی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی منظم دہشت گردی کے مقابلے میں عوامی تیاریوں کی سطح کو بلند کیا جا سکے۔
انہوں نے تمام قوتوں اور عوامی حلقوں کے درمیان کوششوں کو متحد کرنے اور نشانہ بننے والے علاقوں کے مکینوں کو ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کی اپیل بھی کی۔
