غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کے لیے سیز فائر اور امریکہ و صہیونی جارحیت کے مکمل و جامع خاتمے کے حوالے سے آج ہفتہ کے روز پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کا خیر مقدم کیا ہے۔
حماس نے ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی ریاست اس جارحیت کے ذریعے خطے کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بدلنا چاہتی تھی تاکہ اپنی بقا کو یقینی بنا سکے اور یہاں اپنا مطلق غلبہ حاصل کر لے، تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت اور عوام کے غیر متزلزل عزم اور استقامت نے صہیونی و امریکی اہداف کو ناکام بنا دیا ہے، جو کہ درحقیقت صہیونی منصوبے کے مسلسل انہدام کی ایک کڑی ہے۔
بیان میں اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ ان مذاکرات کے میزبان ملک پاکستان اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششیں مثبت نتائج کی امید پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گی، جس سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور عرب و اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد پیدا ہو سکے گا، نیز امت کے مختلف طبقات کے درمیان فتنہ پیدا کرنے والے مذموم صہیونی مقاصد دم توڑ دیں گے۔
حماس نے مزید کہا کہ یہ صورتحال قابض اسرائیل کے اس بار بار دہرائے جانے والے طرز عمل کے سائے میں سامنے آئی ہے جو معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے اور انہیں ناکام بنانے پر مبنی ہے، جیسا کہ آج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے اس کے ٹال مٹول اور وعدہ خلافیوں والے رویے سے بالکل واضح ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر چالیس دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد چار روز قبل شروع ہونے والے سیز فائر کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے وفود آج ہفتہ کے روز اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تاکہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے۔
