مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کا کہنا ہے کہ انتہا پسند اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا ایک ایسی نئی کشیدگی ہے جو مسجد پر مکمل صہیونی خود مختاری اور اسے یہودیانے کی پالیسی کو مسلط کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔
حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے پیر کے روز اپنے اخباری بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابض دشمن کے اس منظم طریقہ کار کا حصہ ہے جسے انہوں نے مسجد اقصیٰ کے حق میں خطرناک ترین قرار دیا ہے، جس کا مقصد قبلہ اول کو مسلمانوں سے خالی کرانا اور اسے آباد کاروں کے دھاووں اور بار بار کی جانے والی سفاکیت کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے۔
عبدالرحمن شدید نے امت مسلمہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل جاری ان خلاف ورزیوں کے تناظر میں صرف مذمتی بیانات اور احتجاج اب کافی نہیں رہے۔
انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ پر مسلط کردہ تالا بندی کے پیش نظر اپنی صفوں میں متحرک ہونے اور مقابلے کی فضا کو مزید وسعت دیں، اور مسجد کی بے حرمتی و اسے یہودیانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں، انہوں نے یقین دلایا کہ مقدسات کے دفاع کی یہ جنگ کھلی رہے گی۔
واضح رہے کہ ایتمار بن گویر نے مقبو ضہ القدس میں غاصب اسرائیلی افواج کے بھاری پہرے میں باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولا اور باب السلسلہ تک اشتعال انگیز گشت کرنے کے بعد اسی راستے سے واپس روانہ ہوا۔
یہ اشتعال انگیزی آباد کار گروہوں کی جانب سے دھاووں میں تیزی لانے کی اپیلوں کے سائے میں کی گئی ہے، جہاں ایتمار بن گویر سنہ 2023ء میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک قبلہ اول پر تقریباً 14 مرتبہ دھاوا بول چکا ہے، جو مسجد اقصیٰ کے خلاف اس کی جارحانہ پالیسی کا تسلسل ہے۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیلی افواج مسلسل 38ویں روز بھی مسجد اقصیٰ کی تالا بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب آباد کاروں کے لیے حائط البراق کے دروازے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ وہاں اپنی نام نہاد “برکت الکہنہ” کی دعا کر سکیں۔
