غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں استحکام حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی حقیقی عالمی کوشش اس مسئلے کی اصل جڑ یعنی “قبضے” کے خاتمے، قابض اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کو ان کے تمام تر حقوق کی مکمل فراہمی پر مبنی ہونی چاہیے۔
امریکہ میں غزہ کی پٹی سے متعلق منعقد ہونے والے امن کونسل کے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے حماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ غزہ کی پٹی اور فلسطینی عوام کے مستقبل کے حوالے سے زیر بحث کوئی بھی سیاسی راستہ یا انتظامات صرف اس صورت میں قابل قبول ہو سکتے ہیں جب ان کا آغاز مکمل طور پر جارحیت کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے اور ہمارے عوام کے جائز قومی حقوق، خاص طور پر آزادی اور حق خودارادیت کی ضمانت سے ہو۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل کے جرائم اور سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال عالمی برادری اور امن کونسل میں شریک فریقوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ ایسے عملی اقدامات کریں جو قابض اسرائیل کو اپنی جارحیت بند کرنے، گزرگاہیں کھولنے، کسی بھی پابندی کے بغیر انسانی امداد داخل کرنے اور فوری طور پر تعمیر نو کا عمل شروع کرنے پر مجبور کریں۔
حماس نے عالمی فریقوں اور ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے، قابض اسرائیل کو انسانی اور سیاسی حقوق کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے روکنے اور مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
