Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس: غزہ میں آزاد کمیٹیوں کے قیام اور اختیارات کی منتقلی میں مکمل تعاون کریں گے

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس “نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں مقررہ آزاد کمیٹیوں کے قیام اختیارات کی منتقلی اور ان کے عملی کام کو آسان بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ نہیں بنے گی۔

جماعت کے ترجمان حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کے انتظام کے لیے آزاد کمیٹی کی تشکیل کی منتظر ہے جو تمام شعبوں کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کمیٹی کی تشکیل پر حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس اختیارات کی منتقلی کے عمل اور کمیٹی کے کام کو سہل بنانے کے لیے کردار ادا کرے گی اور تحریک نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں انتظامی امور کے کسی بھی بندوبست کا حصہ نہیں بنے گی۔

مارچ سنہ 2024ء میں فلسطین سے متعلق عرب سربراہی اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں کسی بھی نام یا حالات کے تحت فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کھلے الفاظ میں مخالفت کی گئی تھی اور غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے مصری منصوبے کو منظور کیا گیا تھا جسے ایک جامع عرب منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کے لیے ایک انتظامی کمیٹی کی تشکیل شامل ہے جو چھ ماہ کی عبوری مدت کے دوران غزہ کے امور چلائے گی۔ یہ کمیٹی آزاد ہوگی اور غیر دھڑہ جاتی تکنیکی ماہرین پر مشتمل ہوگی جو فلسطینی حکومت کے تحت کام کرے گی۔ اس اقدام کا اس وقت بھی تحریک حماس نے خیرمقدم کیا تھا۔

حماس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ قابض اسرائیل کی جانب سے اس پر تحفظات موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کی پٹی کے انتظام سے متعلق امن کونسل اور دیگر اداروں کے قیام کا اعلان کریں گے جو تقریباً ایک ماہ کی تاخیر کے بعد سامنے آئے گا۔

انتیس ستمبر سنہ 2025ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے بیس نکات پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں قابض اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، سیز فائر، حماس کو غیر مسلح کرنا، غزہ کی پٹی سے قابض اسرائیل کے انخلا، ایک ٹکنوکریٹ حکومت کی تشکیل اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل تھی۔

18 نومبرسنہ 2025ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد کو منظور کیا تھا جس میں قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کی بات کی گئی اور سنہ 2027ء کے اختتام تک غزہ کی پٹی میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس کے قیام کی تجویز دی گئی تاکہ ایک متفقہ قیادت کے تحت استحکام پیدا کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan