Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس اور ثالثوں کے درمیان جلد ملاقات متوقع، جنگ بندی پر بات چیت کا امکان

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی دھڑوں کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور دیگر فلسطینی گروہ امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف اور ثالثوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات کریں گے، جس میں غزہ کی پٹی میں سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی ترتیبات پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ ملاقات گذشتہ ہفتے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں منعقدہ اس اجلاس کا تسلسل ہے جس میں حماس اور دیگر گروہوں نے ثالثوں کے ساتھ شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے تناظر میں مقاومت کے اسلحے کے فائل پر بحث کی گئی تھی، تاہم ابھی تک کوئی نئے نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔

العربی الجدید سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی دھڑے معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر قائم ہیں، جس کی قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ فلسطینی دھڑے اس حوالے سے اپنے مطالبات کی منتقلی کے بعد ثالثوں کے جواب کے منتظر تھے جو تاحال موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ مزاحمت کے اسلحے کا معاملہ چھیڑنا اور اسے مختلف راستوں سے جوڑنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں درج نکات کے منافی ہے۔ انہوں نے اسے اسرائیلی موقف کی طرف واضح جھکاؤ قرار دیا۔

حازم قاسم نے مزید کہا کہ غاصب صہیونی دشمن مزاحمت کے اسلحے کو جرم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اصل مجرمانہ اسلحے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ فلسطینی اسلحہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے ایک قانونی حق ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اولین ترجیح سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد ہونی چاہیے۔ انہوں نے قابض اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کیا جن کے نتیجے میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ فضائی اور مدفعی گولہ باری روزانہ کا معمول بن چکی ہے۔

حازم قاسم نے راسنگ پر عائد پابندیوں، رفح کرم ابو سالم کراسنگ کی بندش اور طے شدہ مقدار میں انسانی امداد کی عدم فراہمی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی کے پروٹوکول پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی، جس میں اسلحہ کا معاملہ یا بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کی تجاویز شامل ہیں، صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب انسانی پہلو مکمل ہوں، راستے کھل جائیں اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ایک قومی کمیٹی تشکیل پا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دیگر امور سے ہٹ کر صرف اسلحے کا معاملہ اٹھانا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی متوقع ملاقات سے قبل ایک متفقہ موقف اپنانے کے لیے ثالثوں کے ساتھ رابطے اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان اندرونی مشاورت جاری ہے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے گذشتہ اتوار کی شام اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فلسطین نے ثالثوں کی کوششوں کے احترام اور قابض دشمن کے ہاتھ سے بہانہ چھیننے کے لیے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے ادا کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دوسرے مرحلے کی بات کرنے سے پہلے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ پہلے مرحلے کے اپنے وعدے پورے کرے۔

ابو عبیدہ نے معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی تمام تر ذمہ داری قابض صہیونی حکومت پر عائد کی اور جانبدار امریکی انتظامیہ کو بھی اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اسلحے کے فائل کو اس بھونڈے طریقے سے پیش کرنا دراصل ہمارے عوام کی نسل کشی جاری رکھنے کی ایک کھلی سازش ہے، جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن جو کچھ ٹینکوں اور جنگ کے ذریعے ہم سے چھیننے میں ناکام رہا، وہ سیاست اور مذاکرات کی میز پر ہرگز حاصل نہیں کر سکے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan