استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نزار عوض اللہ کی سربراہی میں کو استنبول میں ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم کالن سے ملاقات کی جس میں فلسطین کی موجودہ صورتحال اور تازہ ترین پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس ملاقات میں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور القدس شہر میں قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور مسلسل خلاف ورزیوں پر گفتگو کی گئی۔ خاص طور پر مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے والی یہود سازی کی سازشوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں لغو بہانوں کے تحت سنہ 1967ء کے بعد پہلی بار ماہِ رمضان اور عید الفطر کے دوران مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی بھی شامل ہے۔
بیان کے مطابق حماس کے وفد نے زور دے کر کہا کہ ان ظالمانہ اقدامات اور زمین پر زبردستی حقائق مسلط کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
فریقین نے غزہ میں سیز فائر (جنگ بندی) معاہدے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد مکمل کرنے اور دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی کے اقدامات پر بھی بحث کی۔ ملاقات میں ہر قسم کی جارحیت کے فوری خاتمے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، طبی سامان اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کی ہنگامی بنیادوں پر غزہ منتقلی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ملاقات کے دوران مغربی کنارے میں مسلح آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں، بستیوں کی تعمیر میں تیزی اور فلسطینیوں کے خلاف جابرانہ اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کے ساتھ روا رکھے جانے والے انسانیت سوز سلوک اور سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
حماس کے وفد نے فلسطینی عوام کی حمایت میں ترکیہ کی کوششوں کی تعریف کی اور صدر رجب طیب ایردوآن کے جرات مندانہ موقف کو بھرپور سراہا۔
بیان کے مطابق ترک حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی کے حصول اور وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے گا۔
