(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے آج اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ لبنان سے داغے گئے راکٹوں کے نتیجے میں جلیلِ اعلیٰ کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک آباد کار ہلاک ہو گیا ہے۔
اسرائیلی چینل 12 نے نقل کیا ہے کہ مسغاف عام کے علاقے میں ایک گاڑی میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ چینل 14 کے مطابق اسی مقام پر گول باری سے دو گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں۔
قابض اسرائیل کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ لبنانی علاقوں سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں شمالی سیکٹر کے ایک قصبے میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے نشانہ بنائے جانے کے عمل کو فوری طور پر مانیٹر کر لیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی سول ڈیفنس نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں میں میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ہوم فرنٹ کمانڈ نے لبنان کی سرحد کے قریب “یفتاح” کے علاقے میں ڈرون طیارے کے گھسنے کے خدشے کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجا دیے۔
دوسری طرف حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حولا قصبے کے سامنے واقع “خربة المنارة” کے علاقے میں قابض اسرائیل کے فوجیوں کے اجتماع کو گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ نے “افیفیم” بستی کے اندر موجود فوجیوں کے ایک گروہ پر ڈرون حملے کی بھی تصدیق کی ہے۔
حزب اللہ نے مزید بتایا کہ اتوار کی علی الصبح 14 مختلف کارروائیاں کی گئیں، جن میں قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں اور اجتماعات کو راکٹوں، ڈرونز اور توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائیاں لبنان اور اس کے غیور عوام کے دفاع میں کی جا رہی ہیں۔
ان حملوں میں عدیسہ، مرکبا، خربة یارون، تلہ المحيسبات، خربہ الكسیف اور خیام شہر کے مقامات شامل تھے۔ اس کے علاوہ الحمامص، وادی العصافیر اور خیام کے گرد و نواح میں قابض فوج کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آج صبح سویرے جلیلِ اعلیٰ کے علاقوں مالکیہ اور افیفیم میں لبنان سے ڈرون طیاروں کے داخل ہونے کے خوف سے خطرے کے سائرن بجتے رہے۔
یہ کشیدگی 2 مارچ سنہ 2026ء سے لبنان پر جاری اسرائیلی بمباری کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اس صیہونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1001 افراد شہید اور 2584 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں قابض اسرائیل کے ٹھکانوں اور فوجی اجتماعات پر حزب اللہ کے حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
