بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی محاذ پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان لبنانی علاقوں پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ ضربات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر قابض اسرائیل کے خلاف نبرد آزما حزب اللہ کے کردار پر سیاسی بحث و تکرار بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ بحث لبنانی صدر جوزف عون کے ان بیانات کے بعد شروع ہوئی جس میں انہوں نے حزب اللہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے ریاست کے ڈھانچے سے باہر ایک مسلح گروہ قرار دیا تھا، جس پر لبنانی سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس کے برعکس لبنانی پارلیمنٹ میں وفاء للمقاومت بلاک کے سربراہ محمد رعد نے قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے انتخاب پر حزب اللہ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ لبنان کے سامنے جنگ یا امن کا سوال نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں، بلکہ اصل انتخاب جنگ یا ان شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے درمیان ہے جو دشمن قابض اسرائیل ملک پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔
محمد رعد نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور سفاکیت کے سائے میں لبنان کا دفاع ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ ملک کے ہر چپے اور اس کی سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کے مقاصد میں لبنانی علاقوں سے قابض اسرائیل کا انخلا، فضائی، برری اور بحری خلاف ورزیوں کا خاتمہ، اسیران کی آزادی، شہریوں کو نشانہ بنانے کے عمل کا سدباب اور بے گھر افراد کی اپنے دیہاتوں میں واپسی سمیت تباہ شدہ قصبوں کی تعمیر نو شامل ہے۔ محمد رعد نے قومی وحدت اور داخلی امن کے تحفظ کے لیے حزب اللہ کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی مسلسل غارت گری مزاحمت کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر قربانی دے کر وطن کا دفاع کرے۔
داخلی بحث کو مسترد کرنے کا اعلان
لبنان میں حزب اللہ کے کردار پر جاری سیاسی بحث کے دوران حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق لبنانی وزیر محمود قماطی نے صدر جوزف عون کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ اس وقت کسی بھی داخلی بحث یا تکرار میں الجھنا نہیں چاہتی۔
قماطی نے اشارہ کیا کہ اس مرحلے پر حزب اللہ کی اولین ترجیح قابض اسرائیل کا مقابلہ کرنا اور صہیونی دشمن کی جارحیت کو ناکام بنانا ہے، جبکہ ساتھ ہی وہ ملک میں کم از کم داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔
انہوں نے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کر دیا کہ حزب اللہ لبنانی مفادات پر ایرانی ایجنڈے کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ حزب اللہ خود کو لبنان کے دفاع اور اس کی خود مختاری کا اٹوٹ انگ سمجھتی ہے۔
مزاحمت کا سفر جاری رہے گا
اس تناظر میں محمد رعد اور محمود قماطی کے موقف قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے پر متفق نظر آتے ہیں۔
جہاں رعد کا ماننا ہے کہ لبنان کے پاس مزاحمت یا اسرائیلی شرائط کے آگے ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں، وہیں قماطی نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ اس مسلط کردہ مساوات کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے جو قابض اسرائیل نے قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب اصل فارمولا “آگ کے بدلے آگ، لوہے کے بدلے لوہا اور قتل کے بدلے قتل” ہوگا۔
قماطی نے واضح کیا کہ حزب اللہ ایک ایسی مساوات قائم کرنے پر کام کر رہی ہے جو اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، مقبوضہ علاقوں سے قابض اسرائیل کے انخلا اور اسیران کی رہائی تک دشمن کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مزاحمت لبنانی ریاست کو ایک ایسی “قوت” فراہم کرتی ہے جسے عالمی اور علاقائی سفارتی کوششوں میں اسرائیلی سفاکیت رکوانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گذشتہ عرصے میں ہونے والے نقصانات کے بعد مقابلے کی صلاحیت برقرار رکھنے کے حوالے سے محمود قماطی نے کہا کہ حزب اللہ اپنے فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے دقیق جائزے کے بعد لیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ مقابلہ جاری رکھنے کا پختہ ارادہ اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور مزاحمت لبنان کے دفاع سے جڑے اپنے قومی اہداف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے قماطی نے ایران کو ایک مستحکم اور مضبوط اداروں والی ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہاں کی سیاسی تبدیلیاں نظام کی طاقت اور تسلسل کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران امریکہ اور قابض اسرائیل کے خلاف ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور اس معرکے میں اپنے مقاصد کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹے گا۔
