بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے بدھ کے روز اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ مزاحمت نے قابض اسرائیل کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے خود وقت کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہماری مزاحمت کی کوئی حد یا چھت نہیں ہوگی۔ رواں ماہ مارچ کے آغاز سے جاری اس جنگ کے حوالے سے ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
نعیم قاسم نے اپنے پیغام میں کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خطرناک امریکی اسرائیلی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد توسیع پسندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر جارحیت کبھی نہیں رکی اور قابض اسرائیل نے کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کی بلکہ گذشتہ مہینوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ لبنان کے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ ہتھیار ڈال دے اور اپنی زمین و خودمختاری سے دستبردار ہو جائے، یا پھر ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ ان کے بقول جواب دینے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ قابض اسرائیل کو نیا جغرافیہ مسلط کرنے یا لبنان کو تنہا کرنے سے روکا جا سکے۔
نعیم قاسم نے یقین دلایا کہ مزاحمت نے مناسب ساز و سامان تیار کر رکھا ہے اور اپنی تاثیر ثابت کر دی ہے۔ انہوں نے مزاحمتی مجاہدین کو حب الوطنی اور آزادی کا نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر کسی حد کے قربانی دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سے اٹھنے والے مطالبات پر انہوں نے کہا کہ قبضے اور جارحیت کی موجودگی میں اسلحے کی صرف ریاست تک محدودیت کی بات کرنا قابض اسرائیل کے مفاد میں جاتا ہے۔ انہوں نے فوجی کارروائیوں کے دوران قابض اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو یکسر مسترد کر دیا۔
انہوں نے اس امریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف قومی وحدت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقابلہ کرنا ریاست اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نعیم قاسم نے واضح کیا کہ یہ جنگ کوئی پراکسی وار یا کسی کے ایما پر لڑی جانے والی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ قابض اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزاحمت، عوام اور فوج کا براہ راست دفاع ہے۔
انہوں نے ایران اور قابض اسرائیل کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے ایرانی ثابت قدمی کی تعریف کی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کے مقابلے میں فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔
