اسلام آباد – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کی جانب سے جاری مظالم، جبری اقدامات اور امتیازی قوانین کھلی ریاستی دہشت گردی اور بدترین انسانیت سوز جرائم ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف سزائے موت جیسے قوانین کا نفاذ دراصل ایک منظم نسل کشی کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد مظلوم فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا اور ان کے وجود کو مٹانا ہے۔
منصورہ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور اب وہ کھلم کھلا اپارتھائیڈ (نسل کشی) نظام کے ذریعے ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر رہا ہے۔ قیدیوں پر تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، بھوک اور بنیادی سہولیات سے محرومی جیسے اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صہیونی ریاست کسی عالمی قانون، اخلاقیات یا انسانی اقدار کی پابند نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص مسلم دنیا، صہیونی پالیسیوں، کھلی جارحیت اور جاری نسل کشی کو سمجھتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولے اور محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فوری اور مکمل سفارتی، تجارتی اور معاشی بائیکاٹ کیا جائے اور اسے عالمی سطح پر تنہا کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی عدالتوں میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جائیں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے مؤثر عالمی دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو متحد ہو کر ایک واضح اور دوٹوک حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، بصورت دیگر صہیونی جارحیت کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے پر جرات مندانہ اور قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ہر عالمی فورم پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کا مسئلہ ہے، اور اس پر خاموشی ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔
