Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

جنگ چھیڑی گئی تو اسرائیل پر فیصلہ کن حملہ ہوگا، ایرانی قیادت کا اعلان

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی صورت جنگ کا خواہاں نہیں رہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تہران اس یقین پر قائم ہے کہ عسکری تصادم نہ ایران کے مفاد میں ہے نہ امریکہ کے اور نہ ہی پورے خطے کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے میڈیا بیانات میں سفارتی ذرائع کھولنے اور برابری کی بنیاد پر سفارتی عمل کو مضبوط بنانے کی اپیل کی اور دھمکیوں اور دباؤ کی زبان سے دور رہنے پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بات چیت پرسکون اور تعمیری ماحول میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرا فریق اس حقیقت کو سمجھے گا کہ ایران کو دھمکیوں یا طاقت کے استعمال کے ذریعے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

اسی تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا براہ راست اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا جو قابض اسرائیل کے گہرے حصے کو نشانہ بنائے گا۔

شمخانی نے میڈیا سے گفتگو میں خبردار کیا کہ خطے کے ممالک نہایت سنگین نتائج سے دوچار ہو سکتے ہیں اور انہیں محاذ آرائی کے دائرہ کار کے پھیلنے پر سنجیدگی سے تشویش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تہران کا پیغام بالکل واضح ہے اور کسی بھی دشمنانہ نیت کے حامل اقدام کا متوازن، موثر اور روکنے والا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی ردعمل میں قابض صہیونی ریاست کے گہرے حصوں پر ضربیں شامل ہوں گی۔

شمخانی نے مزید کہا کہ ایران محاذ آرائی کے امکانات کو صرف بحری میدان تک محدود نہیں سمجھتا اور کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں زیادہ وسیع اور جدید آپشنز کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کا ناگزیر پھیلاؤ اگر خطے کے ممالک تک پہنچا تو یہ سب کے لیے مشترکہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تناؤ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد بڑھا جس میں انہوں نے ایران کی جانب ایک بڑے عسکری بحری بیڑے کی نقل و حرکت کا ذکر کیا اور ساتھ ہی معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں غیر سفارتی آپشنز کی دھمکی دی۔

اسی دوران میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو آئندہ چند دنوں میں ایران پر ممکنہ عسکری حملے کے بارے میں آگاہ کیا ہے جبکہ پورے خطے میں شدید اور خطرناک کشیدگی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan