Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

تیونس میں سیمینار، فلوٹیلا کے قیدی کارکنوں کی آزادی کا مطالبہ

تیونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں اور فلسطینی حقوق کے دفاع کے لیے قائم قومی کمیٹی نے تیونس میں زیر حراست فلوٹیلا کے ارکان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات خالصتاً سیاسی نوعیت کے ہیں۔

یہ مطالبہ گذشتہ جمعرات کو دارالحکومت تیونس میں تیونسی صحافیوں کی نیشنل سنڈیکیٹ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس سیمینار کے دوران کیا گیا۔ اس موقع پر سنڈیکیٹ کے صدر اور وکلاء کی نیشنل باڈی کے نمائندے سمیت زیر حراست سماجی کارکنوں کے اہل خانہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ زیر حراست افراد پر لگائے گئے الزامات کا رخ سیاسی ہے اور یہ تیونسی حکام کے اس رویے کی عکاسی کرتے ہیں جسے اس حساس فائل کے حوالے سے پریشان کن قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے سوشل میڈیا پر زیر حراست کارکنوں کے خلاف چلائی جانے والی جھوٹ اور بدنامی کی مہم کی شدید مذمت کی اور اسے ایک ایسی شیطانی چال قرار دیا جو غاصب صہیونی ریاست اور غیر ملکی سرمایہ داروں کے مفادات کی خدمت کر رہی ہے، بالخصوص ان حالات میں جب غاصب اسرائیل کی حامی کمپنیوں اور اداروں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم زوروں پر ہے۔

کمیٹی نے تمام زیر حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کی علامتی اہمیت اور تمام تر خطرات کے باوجود غزہ کا محاصرہ توڑنے والے فلوٹیلا میں ان کی شرکت کو سراہا، جسے وسیع عوامی تائید حاصل ہے۔ کمیٹی نے حکام کو ان کی سلامتی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان کارکنوں کو من مانی گرفتاری کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب وکلاء کی نیشنل باڈی کے نمائندے نے فلسطینی نصب العین اور فلوٹیلا کے کارکنوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے مقدمے کو حق و انصاف پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلاء برادری ان کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تمام قانونی وسائل بروئے کار لائے گی۔

زیر حراست کارکنوں کے اہل خانہ نے اپنے لخت جگروں کی گرفتاری پر گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کیا، تاہم وہ اپنے بچوں کی بے گناہی اور اس عظیم مقصد پر فخر کرتے نظر آئے جس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے حامی ہیں، غزہ کی پٹی پر جاری سفاکیت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور وہاں مسلط کردہ ظالمانہ محاصرے کو توڑنا چاہتے ہیں۔

اہل خانہ نے اپنے بچوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی قانونی پیروی رہائی کے بعد بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔

سیمینار کا اختتام اس اپیل پر ہوا کہ آج ہفتہ 28 مارچ کو یوم زمین فلسطین کی مناسبت سے نکالی جانے والی ریلی میں بھرپور شرکت کی جائے۔ یہ ریلی دارالحکومت کے ساحہ الباساج سے سہ پہر تین بجے میونسپل تھیٹر کی جانب روانہ ہو گی۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے 4 اپریل کو اسیر کارکنوں کی رہائی کے لیے ایک اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ تیونسی حکام نے 16 مارچ کو گلوبل صمود فلوٹیلا کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور مجرمانہ گروہ بنانے جیسے الزامات کے تحت وارنٹ جاری کیے تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan