غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارت تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں ہائی سکول کے امتحانات کے انعقاد کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے۔ ان کوششوں کے تحت غزہ کی پٹی میں عارضی سکول قائم کیے جا رہے ہیں جو کہ ثانوی امتحانات کے لیے ہنگامی امدادی منصوبے کا حصہ ہیں اور اس کے لیے فنڈنگ قطر کے ادارے “ایجوکیشن ابو ایوری ون” (تعلیم سب کے لیے) کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے وزارت کے تعاون اور نگرانی میں 10 عارضی سکولوں کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ یہ سکول دھاتی فریموں پر نصب مضبوط چھولداریوں (ٹینٹس) سے بنائے جا رہے ہیں، جن میں سے ہر سکول 10 کلاس رومز پر مشتمل ہوگا، جبکہ اس میں انتظامی دفاتر اور حفظان صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کی کل مالیت 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہے۔
وزارت نے اشارہ کیا کہ یہ سکول آنے والے ہفتوں میں مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ آئندہ جون کے مہینے میں ہائی سکول کے امتحانات کے انعقاد کی تیاریوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت نے غزہ میں تعلیم کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں لچکدار تعلیمی پروگراموں کی ترقی اور ایسے تعلیمی متبادل کی فراہمی شامل ہے جو طلبہ کے حقِ تعلیم کا تحفظ کریں۔
وزارت نے مزید کہا کہ وہ تعلیمی شعبے کے لیے درکار تعاون کی فراہمی اور مشترکہ کوششوں کو تقویت دینے کے لیے بین الاقوامی اور قومی شراکت داروں اور اداروں کے ساتھ مسلسل اور گہرا رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
وزارت تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کوششیں ایک ایسے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد طلبہ کو تعلیمی اور نفسیاتی طور پر امتحانات کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس کے لیے ایک مناسب تعلیمی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے اور امدادی پروگراموں میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ ان غیر معمولی حالات میں تعلیمی عمل کی بقا اور فلسطینی طلبہ کی استقامت کو مزید تقویت دی جا سکے۔
یاد رہے کہ وزیر تعلیم امجد برہم کے گذشتہ بیان کے مطابق غزہ کی پٹی میں موجود کل 309 سکولوں میں سے 293 سے زائد سکول نسل کشی کی اس دو سالہ جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے متاثر یا تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ باقی بچ جانے والے سکولوں کو بے گھر ہونے والے پناہ گزینوں کے لیے کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
