غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی کی اس ہولناک جنگ کے بیچوں بیچ جہاں ہر سو موت اور بربادی کا رقص ہے، وہیں انفرادی مزاحمت کے ایسے شاہکار جنم لے رہے ہیں جو ٹوٹتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے سینہ سپر ہیں۔ یہاں ملبے کے ڈھیر محض کھنڈرات نہیں بلکہ مسلسل محاصرے اور پیداواری شعبوں کے مکمل جمود کے اس تاریک دور میں زندگی کی بقا کا ایک متبادل ذریعہ بن چکے ہیں۔
غزہ شہر کے جنوب میں واقع تل الہوا کے علاقے میں نائلون سے بنے ایک شکستہ خیمے کے اندر انجینئر باسل البطش نے عزم و ہمت کی ایک نئی داستان رقم کی ہے۔ انہوں نے المونیم کی ری سائیکلنگ اور ان گاڑیوں و مشینری کے پرزوں کی تیاری کا ایک سادہ مگر انقلاب آفریں کام شروع کیا ہے جو جنگ کی سفاکیت کی نذر ہو کر خاموش ہو چکی تھیں۔ وہ اپنی اس تگ و دو سے قابض دشمن کی جانب سے عائد کردہ سنگین محاصرے اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس نے زندگی کی رمق کو مفلوج کر دیا ہے۔
ایک ادنیٰ سے چولہے سے اٹھتا ہوا دھواں بلند ہو رہا ہے اور انجینئر باسل البطش ایک تپتے ہوئے دھاتی برتن پر جھکے ہوئے اس المونیم کو پگھلا رہے ہیں جو انہوں نے بمباری سے زمین بوس ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے بڑی حسرت کے ساتھ جمع کیا ہے۔ وہ کباڑ جو دنیا کی نظر میں بے قیمت ہو چکا ہے، اس تنگ سی جگہ میں ان قیمتی پرزوں کی شکل اختیار کر رہا ہے جو ان گاڑیوں اور جنریٹروں کی دھڑکنیں بحال کر دیتے ہیں جن پر بے شمار مجبور فلسطینی خاندانوں کے رزق کا انحصار ہے۔
اس وحشیانہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے سے قبل باسل البطش ایک بڑی فیکٹری کے مالک تھے، مگر قابض اسرائیل کی نفرت کی آگ نے غزہ کی پٹی کی ہزاروں صنعتی تنصیبات کی طرح ان کے خوابوں کے اس محل کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ اپنا سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی انہوں نے ہار نہیں مانی اور حالات کی سنگینی نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ اسی ملبے سے اپنی قوم کی بقا کا راستہ تراشیں۔
تباہ حال معیشت اور سسکتی زندگی کے متبادل
اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس منظم نسل کشی نے غزہ کی پٹی کے معاشی ڈھانچے کو پیوندِ خاک کر دیا ہے، جہاں کارخانے اب صرف لوہے اور سیمنٹ کے بے جان ڈھانچے رہ گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے لاکھوں فلسطینیوں کو بے روزگاری کے گرداب میں دھکیل دیا ہے اور غربت کی لہر نے ہر گھر کے دروازے پر دستک دی ہے۔
عالمی بینک کی ایک گذشتہ رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت دہائیوں کے بدترین انجماد کا شکار ہو چکی ہے جہاں غزہ کی پٹی میں زندگی کا پہیہ مکمل طور پر تھم چکا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں 83 فیصد کا ہولناک خسارہ اور بے روزگاری کی شرح 80 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کے باعث اب اکثر خاندان اپنی سانسوں کی ڈور برقرار رکھنے کے لیے محض بیرونی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔
اسی کربناک پس منظر میں باسل البطش نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ گاڑیاں اور جنریٹر دم توڑ رہے ہیں اور قابض اسرائیل نے تمام گزرگاہوں پر قفل ڈال رکھے ہیں تاکہ کوئی ایک پرزہ بھی غزہ کی پٹی میں داخل نہ ہو سکے۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں مزید کہا کہ ہم نے عزم کر لیا ہے کہ ہم اپنے ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے خود اپنی ضرورت کا سامان تیار کریں گے تاکہ دشمن کی اس معاشی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پرزوں کی تیاری کا یہ عمل کسی کڑی آزمائش سے کم نہیں، جس کا آغاز ملبے کی خاک چھاننے اور المونیم تلاش کرنے سے ہوتا ہے، پھر اسے دہکتے ہوئے شعلوں پر پگھلایا جاتا ہے اور مٹی کے سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ جب یہ دھات ٹھنڈی ہو کر ایک نئی شکل اختیار کرتی ہے تو اسے رگڑ کر نکھارا جاتا ہے تاکہ وہ کسی دکھی فلسطینی کی مشینری کا حصہ بن سکے۔
مختصر پرزے اور عظیم مقصد
وسائل کی اس شدید قلت میں یہ چھوٹے چھوٹے پرزے فلسطینیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں، کیونکہ ایک گاڑی کے دوبارہ چلنے کا مطلب صرف ایک انجن کا سٹارٹ ہونا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی بھوک مٹنے کی نوید ہے۔ یہ ایک جنریٹر کا چلنا نہیں بلکہ ان گھروں میں امید کی روشنی کا لوٹنا ہے جو صہیونی سفاکیت کے باعث تاریکیوں کا مسکن بنے ہوئے ہیں۔
باسل البطش کا کہنا ہے کہ جب ہم کوئی ایک پرزہ تیار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ایک مشین کو کباڑ بننے سے بچانے کے ساتھ ساتھ ایک خاندان کو موت کے منہ میں جانے سے بھی بچا لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خام مال کی نایاب صورتحال کے باعث انہیں کبھی کبھی ایک ادنیٰ سے پرزے کے لیے کئی کئی دن تک تپتی دھوپ میں ملبے کی خاک چھاننی پڑتی ہے، مگر عوام کی ضرورت انہیں آرام نہیں کرنے دیتی۔
کسی بھی حفاظتی انتظام کے بغیر، دم گھونٹ دینے والے دھوئیں اور جھلسا دینے والی تپش کے سائے میں باسل اور ان کے ساتھی محنت کا رزق کما رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ ورکشاپ محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ قابض دشمن کے سامنے صمود و استقامت کی ایک ایسی ڈھال ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ غزہ کی پٹی کے باسی مٹنا نہیں جانتے۔ وہ فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے غزہ میں مٹتی ہوئی راکھ سے زندگی کو دوبارہ تخلیق کرنے کا فن سیکھ لیا ہے۔
ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ان کی آنکھوں میں ایک امید کی چمک باقی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب محاصرہ ٹوٹے گا، گزرگاہیں کھلیں گی اور وہ اپنی فیکٹری کو دوبارہ اسی آب و تاب کے ساتھ تعمیر کر سکیں گے۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی میں انسانی المیہ روز بروز سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ اکتوبر سنہ 2025ء میں نام نہاد سیز فائر کا اعلان ہوا تھا جس کا ذکر اقوام متحدہ کے عہدیدار نکولے ملادی نوف نے بھی سلامتی کونسل میں کیا تھا۔
انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ بنیادی انسانی خدمات ابھی تک دم توڑ رہی ہیں، ہسپتالوں کا نظام مکمل تباہی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور معیشت کے پیروں میں محاصرے کی ایسی زنجیریں ہیں کہ وہ بحالی کی سکت نہیں رکھتی۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ قابض اسرائیل کی اس سفاکیت نے 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو جامِ شہادت پلایا ہے اور تقریبا 1 لاکھ 72 ہزار زخمیوں کے رستے ہوئے زخم آج بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بننے کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے گزرگاہوں کی بندش اور وقفے وقفے سے کی جانے والی بمباری نے اس سیز فائر کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، جس سے غزہ کی پٹی میں انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
