مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافیہ میساء ابو غزہ کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت انہیں چھ ماہ کے لیے مسجد اقصیٰ مبارک سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے ذکر کیا ہے کہ یہ فیصلہ سنہ 2026ء کے ماہ فروری میں شروع کی گئی اس وسیع تر جارحانہ مہم کا حصہ ہے جس کے تحت رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر درجنوں فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
گورنری نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ بے دخلی کے یہ اقدامات حالیہ عرصے میں 250 سے 500 کے قریب فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ سے دور رکھنے کے اس تناظر میں کیے جا رہے ہیں جو کہ ماہ صیام سے قبل شروع ہونے والی جبری تضییق اور گھناؤنی صیہونی پالیسی کا حصہ ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ بے دخلی کے یہ فیصلے صرف میساء ابو غزہ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کی زد میں دیگر صحافی بھی آئے ہیں جن میں محمد الصادق شامل ہیں جن کے خلاف چھ ماہ کی ملک بدری کا حکم جاری ہوا اور ان کے علاوہ صحافی سیف القواسمی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ جابرانہ اقدامات میساء ابو غزہ کے خلاف جاری ان مسلسل حملوں کا تسلسل ہیں جن کا وہ اپنی فیلڈ ورک کے دوران سامنا کرتی رہی ہیں، یاد رہے کہ وہ سنہ 2021ء میں مسجد اقصیٰ کے واقعات کی کوریج کے دوران غاصب صہیونی دشمن کے حملے میں زخمی بھی ہوئی تھیں۔
غاصب اسرائیلی حکام ان بے دخلی کے فیصلوں کو نام نہاد سکیورٹی خطرات یا اشتعال انگیزی کے بہانوں کے پیچھے چھپاتے ہیں جبکہ بیت المقدس کے باسی اسے مسجد کو نمازیوں اور ان صحافیوں سے خالی کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیتے ہیں جو وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور سفاکیت کی دستاویزی شہادتیں جمع کرتے ہیں۔
ایک گذشتہ بیان میں مقبوضہ بیت المقدس گورنری نے اس بات پر زور دیا تھا کہ غاصب اسرائیلی حکام رمضان المبارک کے دوران نمازیوں کے استقبال کے لیے کیے گئے انتظامات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، گورنری کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے 250 سے زائد فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بے دخلی کے فیصلوں کی تعداد تقریباً 2630 تک پہنچ چکی ہے جبکہ صرف ماہ جنوری میں بے دخلی کے تقریباً 300 کیسز سامنے آئے جن میں سے اکثر کو ماہ رمضان کی تیاری کے طور پر احتیاطی کارروائی قرار دیا گیا۔
سنہ 2026ء کے ماہ جنوری کے اختتام تک بے دخلی کے تقریباً 100 فیصلے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 95 فیصلے قبلہ اول مسجد اقصیٰ مبارک سے دوری سے متعلق تھے۔
