اسلام آباد (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ، فرانس اور کئی دیگر ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ہمارے وزیراعظم اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کر رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیل ریاست قائم کی گئی، اور لیگ آف نیشنز کی رپورٹ میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جسے نظرانداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی غلطی کے سبب مسئلہ فلسطین پیدا ہوا اور آج وہی منصف بن رہے ہیں، اور ستر ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت کے مرتکب نتین یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کر لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہماری پالیسیوں پر عالمی دباؤ اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940 کی قرارداد میں دی تھی، اس پر آج بھی عمل ہونا چاہیے، اور قائداعظم نے اسرائیل کو “ناجائز وجود” قرار دیا تھا۔
سربراہ جے یو آئی نے ایوان سے سوال کیا کہ جب فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تو کیا یہ ایوان واقعی عوام کی نمائندگی کرتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا؟ جبکہ ہمارے ملک میں امن نہیں، کئی اضلاع میں مسلح گروہوں کا قبضہ ہے اور ریاستی فورسز اپنی پوسٹیں چھوڑ کر ٹھیکیداروں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے بجٹ اور مالی معاملات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہوں کے بھتے کے لیے بجٹ میں حصہ رکھا گیا ہے، سرکاری افسر سرمایہ کاروں سے بھتہ لے کر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں، اور عالمی سطح پر بھی طاقت اور دولت کا اتحاد آمریت کو تقویت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر اسلامی قانون سازی کو بھی جمہوری حق قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سود کے خاتمے یا اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور کم عمری کی شادی کو زنا بالجبر قرار دیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ترامیم میں حاصل استثنیٰ واپس لیا جائے اور نتین یاہو کی موجودگی میں اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کیا جائے۔
ان کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔