یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے حکومتی حلقوں نے سکیورٹی اور سیاسی امور سے متعلق وزارتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرید کشنر کو سادہ لوح قرار دیا جبکہ وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے غزہ کی پٹی پر فوجی اقتدار مسلط کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ بات عبرانی میڈیا نے اس وقت بتائی جب غزہ کے مستقبل اور جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے حوالے سے اندرونی مباحث جاری ہیں۔
قابض اسرائیل کے چینل 12 نے پیر کے روز انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر جو یہودی طاقت پارٹی کے سربراہ ہیں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اتوار کی شام اجلاس کے دوران کہا ہم نے اب تک حماس کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا اور ہمیں اسے توڑنا اور غیر مسلح کرنا ہوگا۔
بن گویر نے مزید کہا کشنر اور وِٹکوف کی سادہ لوحی بہت ہو چکی ہے اور اگر رفح کراسنگ کھولی گئی تو یہ ایک بڑی غلطی اور نہایت منفی پیغام ہوگا۔ یہ بیان غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی امریکی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوری کے وسط میں جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا جس کی شقوں میں غزہ کی پٹی میں حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت حماس اپنے ہتھیاروں پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس نے انہیں ذخیرہ یا منجمد کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کے قبضے کے مقابل ایک مزاحمتی تحریک ہے۔
قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو جس پر غزہ میں جنگی جرائم کے باعث عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے رفح کراسنگ کی بحالی کو اسرائیلی فوج کے سارجنٹ میجر ران گویلی کی باقیات کی تلاش کی تکمیل سے مشروط کر رہے ہیں جو غزہ کی پٹی میں آخری اسرائیلی قیدی تھا۔
قابض اسرائیلی فوج نے مئی سنہ 2024ء میں رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کیا تھا جو امریکہ کی حمایت سے اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ پر مسلط کی گئی نسل کش جنگ کا حصہ تھا جو لگ بھگ دو برس تک جاری رہی۔
کابینہ کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد اور رفح کراسنگ کی ممکنہ بحالی پر بھی غور کیا گیا۔ یہ اجلاس اس ملاقات کے بعد ہوا جو نیتن یاھو نے ہفتے کی شام کوشنر اور وِٹکوف کے ساتھ آئندہ اقدامات پر مشاورت کے لیے کی تھی جبکہ کئی وزرا نے اس منصوبے کی مخالفت کی۔
اسی تناظر میں چینل 12 نے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ جو مذہبی صہیونیت پارٹی کے سربراہ ہیں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اجلاس میں کہا اگر ہم غزہ پر فوجی اقتدار قائم نہیں کرتے تو اس کا مطلب فلسطینی ریاست کا قیام ہوگا۔
دوسری جانب اسی پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیر آبادکاری اوریت ستروک نے کہا ہم غزہ کو اپنے بچوں کے خون کے بدلے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔
لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والی وزیر مواصلات میری ریگیو نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ غزہ میں حکومت نہ حماس ہو اور نہ فلسطینی اتھارٹی۔ یہ بیان غزہ میں کسی بھی فلسطینی سیاسی انتظام کے انکار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
یہ بیانات قابض اسرائیل کی حکومت کے اندر غزہ کے مستقبل پر بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتے ہیں جہاں ایک طرف امریکہ اور عالمی دباؤ کے تحت کشیدگی میں کمی کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب انتہا پسند دائیں بازو فوجی کنٹرول کے پھیلاؤ اور کسی بھی فلسطینی سیاسی حل کو یکسر مسترد کرنے پر اڑا ہوا ہے۔
