غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں آٹزم اب محض ایک طبی حالت نہیں رہی جس کے لیے خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہو، بلکہ یہ ایک ایسی سفاکانہ جنگ کے سائے میں دوہری اذیت بن چکی ہے جو سکون یا استحکام کا نام و نشان مٹنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں جہاں بمباری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا، مکانات ملبے کا ڈھیر بن رہے ہیں اور خاندانوں کو ان کی جڑوں سے اکھاڑا جا رہا ہے، وہاں آٹزم کا شکار سینکڑوں بچے ایک ایسی سنگین حقیقت میں جی رہے ہیں جو ان کے سمجھنے یا سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت سے کہیں بلند ہے۔
دواپریل سنہ 2026ء کو پوری دنیا آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن منا یا گیا لیکن اس محاصر زدہ غزہ کی پٹی میں یہ دن ان خاندانوں کی تلخ حقیقت سے بہت دور نظر آتا ہے جو علاج کے لیے نہیں بلکہ صرف زندہ رہنے کے لیے روزانہ موت سے پنجہ آزما ہیں۔
ملبے کے درمیان ناممکن نگہداشت
شمالی غزہ کے علاقے شیخ رضوان میں ایک تباہ شدہ مکان کے اندر 16 سالہ لیان ابو قوسہ اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔ یہ ماحول کسی بھی طرح ایک ایسی بچی کے لیے محفوظ نہیں جو آٹزم جیسے حساس مرض میں مبتلا ہو۔
لیان کے والد حماد قوسہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی تکالیف تو جنگ سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں، لیکن آج ان میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیان کو باقاعدہ علاج اور بحالی کے پروگراموں کی ضرورت تھی، مگر وسائل کی کمی رکاوٹ بنی رہی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خاندان اس کے لیے کم از کم بنیادی دیکھ بھال فراہم کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔
ملبے کے اس ڈھیر میں روزمرہ کے معمولی کام بھی پیچیدہ چیلنجز بن چکے ہیں۔ لیان کو خطرات سے بھرے اس ماحول میں مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔ اب خاندان اسے ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا، جس نے پورے گھر والوں کی زندگی پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جو خود بھی شدید نفسیاتی اور انسانی دباؤ کے تحت جی رہے ہیں۔
والد اس المیے کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جیسے جیسے لیان بڑی ہو رہی ہے، اس کے ساتھ معاملہ کرنا مزید کٹھن ہوتا جا رہا ہے، اور اردگرد پھیلی اس تباہی میں اس کے رویے پر قابو پانا مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو گیا ہے۔
نقل مکانی نے علاج کی راہ مسدود کر دی
ایک دوسری جگہ اسلام شمالی ایک مختلف مگر اتنے ہی دکھ بھری کہانی سناتی ہیں۔ ان کا بیٹا یحییٰ، جو جنگ سے پہلے اپنے علاج میں نمایاں بہتری دکھا رہا تھا، چند لمحوں میں وہ سب کچھ کھو بیٹھا جو اس نے برسوں کی محنت سے حاصل کیا تھا۔
ماں بتاتی ہیں کہ یحییٰ کو غزہ کے اندر ماہرانہ نگہداشت مل رہی تھی، بلکہ وہ اسے لے کر مصر بھی گئیں جہاں اس کی حالت میں واضح بہتری آئی۔ لیکن ان کی واپسی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد نقل مکانی اور علاج میں تعطل کا ایک نیا تکلیف دہ سفر شروع ہو گیا۔
غیر مستحکم مقامات کے درمیان مسلسل نقل مکانی، خیموں یا نامکمل مکانات میں رہائش نے اس بچے سے اس کے تحفظ کا احساس چھین لیا ہے۔ آٹزم کے شکار بچوں کے لیے روزمرہ کی یکساں روٹین بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جس کی عدم موجودگی میں اس کی حالت تیزی سے بگڑ گئی۔
اس کی ماں روتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یحییٰ مسلسل خیمے سے باہر بھاگ جاتا ہے، وہ ان خطرات سے بالکل بے خبر ہے جو اس غیر محفوظ ماحول میں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ اسے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کی کوشش میں خاندان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر ایک نامکمل اپارٹمنٹ کرائے پر لیا ہے تاکہ اسے کسی حد تک سکون فراہم کیا جا سکے۔
جب والدین جبراً معالج بن گئے
یہ بحران صرف خاندانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نگہداشت اور بحالی کے پورے نظام کی مکمل تباہی تک پھیل چکا ہے۔ جنگ سے پہلے بھی غزہ کی پٹی ماہرین اور خصوصی مراکز کی کمی کا شکار تھی، مگر آج یہ سہولیات تقریباً ناپید ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خاندانوں کو تجربہ اور آلات نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں اور معالجین کا کردار خود نبھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں کی مہارتوں اور رویوں میں واضح گراوٹ آئی ہے۔
اس سنگین حقیقت میں یہ معصوم بچے نہ صرف علاج سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ اس نفسیاتی سہارے اور انسانی رابطے سے بھی دور ہو رہے ہیں جو ان کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔ یہاں روزمرہ کی زندگی خاندانوں کی ہمت اور استقامت کا ایک کڑا امتحان بن چکی ہے کیونکہ انہیں کسی قسم کی کوئی حقیقی امداد میسر نہیں۔
جب دنیا آٹزم کے شکار افراد کو معاشرے کا حصہ بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کے نعرے لگا رہی ہے، تو غزہ کے بچے کسی بھی وقت سے زیادہ حاشیے پر دھکیلے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ان کی کوئی آواز ہے اور نہ ہی کوئی انتخاب۔
یہاں والدین کسی جدید بحالی پروگرام یا تعلیم کے یکساں مواقع کا سوال نہیں کرتے، بلکہ وہ محض بنیادی حقوق مانگتے ہیں: ایک محفوظ جگہ، سکون کا ایک لمحہ اور اپنے بچوں کے لیے خوف سے پاک جینے کا ایک موقع۔
ایک ایسی دنیا جو سب کو اپنائے
غزہ کی پٹی میں آٹزم کا شکار بچوں کی تعداد کے بارے میں کوئی درست اعداد و شمار یا ماہرانہ سروے موجود نہیں ہیں، تاہم اس شعبے میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کا تخمینہ ہے کہ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ یہ صورتحال سرکاری غفلت، بحالی کی سہولیات کی کمی اور مراکز میں دستیاب تجربہ کار عملے کی محدود تعداد کی وجہ سے مزید ابتر ہو رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ آٹزم کا شکار افراد کو بھی دوسروں کی طرح اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور انہیں ہمارے مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی صلاحیتیں اور بصیرت دنیا کو بہت زیادہ مالا مال کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم آٹزم کے شکار افراد کے لیے ان مواقع کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جن کے وہ حق دار ہیں تاکہ وہ معاشرے میں بھرپور شرکت کر سکیں، تو تعلیم میں مساوات، روزگار میں انصاف اور صحت کے نظام تک سب کی رسائی ناگزیر ہے۔
