لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جبر کے تازہ اشاریوں سے حاصل شدہ اعداد و شمار نے برطانیہ میں اظہار رائے کی آزادی کی سطح میں نمایاں کمی کو بے نقاب کر دیا ہے، یہ صورتحال ان پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جن کا مقصد فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا ہے، جبکہ دوسری جانب غزہ کی پٹی پر غاصب اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں بدستور جاری ہیں۔
مرکز نے فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی تحریک کے خلاف “برطانوی انڈیکس برائے جبر” جاری کیا ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر غاصب اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اس جبر میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
کئی ممالک میں شہری آزادیوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سالانہ انڈیکس نے ظاہر کیا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران برطانیہ کی درجہ بندی میں واضح تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ پرامن احتجاجی مظاہروں خصوصاً قضیہ فلسطین سے جڑے مظاہروں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات اور قوانین کا وسیع تر استعمال ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے موجودہ قانون سازی اور پولیس کے غیر معمولی اختیارات کو فلسطین نواز مظاہروں کو محدود کرنے یا منتشر کرنے کے لیے استعمال کیا، ان کے راستوں اور اوقات پر سخت شرائط عائد کیں اور احتجاج کے دوران لگائے گئے نعروں کی بنیاد پر مظاہرین کو گرفتار کیا یا ان سے تفتیش کی۔
انڈیکس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسی سیاسی اور میڈیا مہمات بھی چلائی گئیں جن کا محور فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو “امنِ عامہ میں خلل” یا “اشتعال انگیزی” کے دعوؤں سے جوڑنا تھا، جس نے رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے اداروں اور کارکنوں پر دباؤ کا ماحول پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آزادیوں میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ کو غاصب اسرائیل کی حمایت میں اپنے سیاسی اور سفارتی موقف کی وجہ سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، لندن نے غزہ پر جنگ کے آغاز سے ہی تل ابیب کے لیے اپنی فوجی اور سیاسی حمایت جاری رکھی ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر انسانی جانوں کے ضیاع اور شہریوں کے خلاف سفاکیت پر انتباہات جاری کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ تعلیمی اور میڈیا کے میدان تک پھیل گئیں، جہاں یونیورسٹیوں میں پروگراموں کی منسوخی، یا فلسطین سے متعلق سرگرمیاں منعقد کرنے والے ثقافتی اداروں پر دباؤ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اسی طرح انڈیکس نے ان صحافیوں اور کارکنوں کی شکایات کو بھی دستاویزی شکل دی ہے جنہوں نے اپنے کھلے موقف کی وجہ سے ہراسانی یا دھمکیوں کا سامنا کیا۔
اسی تناظر میں رپورٹ نے خبردار کیا کہ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر پابندیاں اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے “دوہرے معیار” کی عکاسی کرتی ہیں، کیونکہ برطانوی حکام دیگر بین الاقوامی مسائل پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی اجازت دیتے ہیں جبکہ جب بات غاصب اسرائیل کی آتی ہے تو سخت پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔
انڈیکس تیار کرنے والوں نے زور دیا کہ اس رجحان کو وسیع تر سیاسی تناظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جہاں برطانوی حکومت کسی بھی ایسے اندرونی دباؤ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے جو غاصب اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات یا خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکے، خاص طور پر غزہ پر جنگ کے حوالے سے داخلی تقسیم کے پیشِ نظر۔
دوسری جانب برطانوی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے خاص طور پر فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کو نشانہ بنایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد “امنِ عامہ کا تحفظ” اور “نفرت انگیز تقریر” کو روکنا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے جواب دیا ہے کہ ان بہانوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے لیے مبہم طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ متنبہ کرتی ہے کہ اس نہج کے تسلسل سے برطانیہ میں انسانی حقوق کے منظر نامے پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایک ایسے ملک کے طور پر اس کا امیج متاثر ہو سکتا ہے جو آزادیوں اور انسانی حقوق کے دفاع کا دعویدار ہے۔ رپورٹ میں سکیورٹی اور قانون سازی کی پالیسیوں پر فوری نظرثانی اور پرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انڈیکس کا اختتام اس تاکید پر ہوتا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی، بشمول غاصبانہ قبضے کے زیرِ اثر اقوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا حق، جمہوری نظاموں کی بقا کا بنیادی پیمانہ ہے، اور مغربی ممالک میں اس آزادی کا خاتمہ دنیا بھر میں مزید انسانی حقوق کی پامالیوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
