Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اینروا کی کتاب سے فلسطین کا نام ہٹانے پر لبنان میں فلسطینی غصے کی لہر

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان میں انروا کے زیر انتظام سکولوں میں پڑھائی جانے والی چھٹی جماعت کی جغرافیہ کی کتاب نے فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ بھڑکا دیا ہے۔ اس کتاب میں نقشوں سے فلسطین کا نام حذف کر کے اس کی جگہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ فلسطینیوں کے نزدیک یہ اقدام فلسطینی قضیے کی اساس اور حق واپسی پر براہ راست حملہ ہے۔

کتاب کے اس متنازعے مواد کا انکشاف اس وقت ہوا جب انروا کے سکولوں میں تعلیمی سال کے آغاز کو تقریباً تین ماہ گزر چکے تھے۔ ان سکولوں میں تعلیمی سال اکتوبر سنہ 2025ء میں شروع ہوا تھا۔ اس انکشاف نے نگرانی کے نظام اور لبنانی وزارت تعلیم کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ انروا میزبان ملک کے نصاب کی تدریس کی پابند ہے۔

لبنان میں مقیم فلسطینیوں نے کہا کہ یہ کوئی انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک دانستہ قومی جرم ہے کیونکہ فلسطین کا نام مٹانا اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ حق واپسی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ احتجاج کی فضا میں سینکڑوں طلبہ نے والدین اور عوامی کمیٹیوں کی حمایت سے سکولوں میں اس کتاب کی کاپیاں نذر آتش کر دیں جس کے مناظر ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر نشر ہوئے۔

ادھر فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع کے لیے قائم ادارہ 302 کے ڈائریکٹر جنرل علی ہویدی نے وضاحت کی کہ مذکورہ کتاب چھٹی جماعت کی اصل جغرافیہ کی کتاب کے ساتھ ایک اضافی تعلیمی مواد ہے اور یہ بنیادی نصابی کتاب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلی گذشتہ سال سے انروا کے سکولوں میں نافذ کی گئی تھی۔

علی ہویدی نے کہا کہ انروا کی نئی اشاعت میں نقشے سے فلسطین کا نام حذف کر کے اس کی جگہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی درج کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فلسطینی سول سوسائٹی کے اداروں نے سب سے پہلے لبنانی وزارت تعلیم کو ذمہ دار ٹھہرایا کیونکہ لبنان کی سرزمین پر پڑھائی جانے والی تمام کتابیں وزارت کی نگرانی اور منظوری سے مشروط ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق فلسطین کا نام حذف کرنا لبنان کے سرکاری مؤقف سے متصادم ہے جو فلسطین کو ایک مقبوضہ سرزمین تسلیم کرتا ہے۔

علی ہویدی نے مطالبہ کیا کہ لبنانی وزارت تعلیم انروا پر دباؤ ڈالے کہ اس کتاب کو فوری طور پر واپس لے کر تلف کیا جائے۔ انہوں نے لبنانی فلسطینی مکالمہ کمیٹی کے فعال کردار پر بھی زور دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام کسی حکمت عملی کی غلطی نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف ایک واضح قومی جرم ہے۔ ان کے بقول یہ قدم قابض اسرائیل کے ان منصوبوں سے ہم آہنگ ہے جن کا مقصد انروا کے نصاب کو قومی شناخت سے خالی کرنا ہے۔

علی ہویدی نے کہا کہ یہ عمل بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن سنہ 1989ء کی شق 29 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے جس میں طلبہ کی قومی شناخت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

کتاب کے مواد پر تاخیر سے توجہ دیے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انروا کے سکولوں کے منتظمین اور اساتذہ پر یقیناً شدید ملال ہے لیکن اس وقت اصل ترجیح کتاب کو گردش سے نکال کر باضابطہ طور پر تلف کرنا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ عملی طور پر یہ کتاب اب موجود نہیں کیونکہ طلبہ نے والدین اور عوامی کمیٹیوں کے تعاون سے اسے علانیہ جلا دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انروا کی جانب سے کتاب کی تلفی کا باضابطہ اعلان اور لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں سے تحریری معذرت ناگزیر ہے۔

علی ہویدی نے بتایا کہ انروا نے فلسطین کا نام حذف کرنے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق غیر علانیہ گفتگو میں انروا نے اس اقدام کو سوچ کو فروغ دینے کا بہانہ قرار دیا جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سوچ کو فروغ دینے کے لیے صرف فلسطین کا نام ہی مٹایا جاتا ہے۔

انہوں نے انروا کی موجودہ صورتحال کو ایک ایسے طوفان سے تشبیہ دی جو اسے لپیٹ میں لے رہا ہے اور کہا کہ اس کے کمشنر جنرل کے بعض فیصلے انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہیں نہ کہ صرف فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف۔

علی ہویدی نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ لبنان میں انروا اور ریاست کے درمیان کوئی باقاعدہ ہیڈکوارٹر معاہدہ موجود نہیں جیسا کہ انروا کے دیگر آپریشنل علاقوں میں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کا نام حذف کرنا سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے خصوصاً اس لیے کہ لبنان آج بھی قابض اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ معاملہ یوں ہی نہیں گزرے گا اور اگر کتاب واپس نہ لی گئی اور باضابطہ معذرت پیش نہ کی گئی تو لبنان میں فلسطینی عوام پرامن اور مہذب دھرنوں کا راستہ اختیار کریں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan