تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک اسرائیلی ماہر نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے کلسٹر میزائل قابض اسرائیل میں انتہائی ہولناک اور جسیم نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
عبرانی اخبار معاریو نے وسطی قابض اسرائیل میں رمات گان اور جفعتايم کے علاقے میں فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے سابق کمانڈر ہارون گودینر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایرانی عنقودی میزائل فضا میں کافی بلندی پر ہی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ان کے ذیلی بم کئی کلومیٹر کے وسیع رقبے پر گرتے ہیں۔
اخبار کے مطابق ایران روزانہ کی بنیاد پر پورے قابض اسرائیل کی سمت بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ ایسے کلسٹر میزائل بھی داغ رہا ہے جو فضا میں ہی بکھر کر چھوٹے بموں اور ٹکڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
ہارون گودینر کا کہنا ہے کہ جب یہ عنقودی بم پھٹتے ہیں جن میں سے ہر ایک کا وزن تین سے پانچ کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے تو وہ عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، اس کے علاوہ ان سے بڑے پیمانے پر آگ لگتی ہے اور سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑ جاتے ہیں۔
ماہر کے مطابق اگر کوئی عمارت ایک منزلہ ہو تو یہ بمباری اسے مکمل طور پر زمین بوس کر سکتی ہے جبکہ کثیر المنزلہ عمارتوں میں نقصان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عنقودی بم کس مقام اور کس زاویے سے گرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمین پر گر کر پھٹنے والے بموں کے ٹکڑے بلندی تک اڑتے ہیں جو تباہی کی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہوم فرنٹ کمانڈ (قابض اسرائیلی فوج کا ذیلی ادارہ) عوام سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ جب بھی میزائل کے ٹکڑے یا تباہ شدہ باقیات دیکھیں تو ان کے قریب نہ جائیں اور نہ ہی انہیں چھوئیں بلکہ دوسروں کو بھی دور رکھیں اور فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کمزور ڈھانچے والے پل گاڑیوں سمیت گر سکتے ہیں اس لیے میزائل حملے کے وقت گاڑیوں سے اتر کر ان سے دور ہو جانا چاہیے اور کچی زمین یا سڑک کے کنارے لیٹ جانا چاہیے۔
ہارون گودینر نے ایک اور خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ سڑکوں پر سفر کرنے والے ڈرائیور سائرن بجنے کی صورت میں قریب ترین پل کے نیچے گاڑیاں روک لیتے ہیں حالانکہ ہوم فرنٹ کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ یہ خطرناک ہے کیونکہ پل کو شدید نقصان پہنچنے کی صورت میں وہ ملبہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے سائرن بجنے کے دوران سڑکوں پر گاڑیاں رکنے اور راستے بلاک ہونے کے باعث ہونے والے ہولناک ٹریفک حادثات کا بھی ذکر کیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ 28 فروری سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1332 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای اور متعدد سکیورٹی حکام شامل ہیں، اس کے علاوہ 15 ہزار سے زائد افراد زخمی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
تہران اس صیہونی سفاکیت کے جواب میں قابض اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرونز داغ رہا ہے جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 14 آبادکار ہلاک اور 3195 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر حملوں میں امریکی فوجی بھی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کو اس جارحیت کا نشانہ ایک ایسے وقت میں بنایا جا رہا ہے جب عمانی ثالث کی گواہی کے مطابق جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی، اور یہ دوسری بار ہے کہ قابض اسرائیل نے مذاکرات کی میز الٹ دی ہے، اس سے قبل جون سنہ 2025ء کی جنگ بھی اسی طرح شروع کی گئی تھی۔
