تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ اور قابض اسرائیل کے مشترکہ سفاکانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایران نے غاصب ریاست کے عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائلوں کا طوفان برپا کر دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک جرات مندانہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر جارح دشمن اور قاتل ریاست کی سفاکیت کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مقبوضہ سرزمین کی طرف وسیع پیمانے پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملوں کی پہلی لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
عبرانی میڈیا اور ویب سائٹس نے اعتراف کیا ہے کہ خصوصی ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد غاصب اسرائیل کے تمام شہروں میں خوف و ہراس پھیلانے والے سائرن گونج اٹھے اور غاصب حکام نے شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں چھپنے کی ہدایات جاری کر دیں۔
عبرانی ذرائع نے اعتراف کیا کہ تل ابیب کے آسمان پر ایک میزائل مار گرایا گیا، جبکہ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں کھلے علاقے میں دو میزائل خوفناک دھماکوں سے گرے۔
بعد ازاں میڈیا نے غاصب اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کی ایک نئی اور مزید شدید لہر داغے جانے کی بھی تصدیق کی ہے۔
ایران کے خلاف صہیونی امریکی جنگ پر پہلا ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین نے غاصب دشمن کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تم نے ایک ایسا راستہ شروع کیا ہے جس کا بھیانک انجام تمہارے قابو میں نہیں ہوگا۔
الجزیرہ نے ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ہم غاصب اسرائیل کو واضح طور پر خبردار کرتے ہیں کہ جو کچھ آنے والا ہے اس کے لیے تیار ہو جائے، ہمارا جواب اعلانیہ ہو گا اور اب کوئی سرخ لکیریں باقی نہیں ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں تمام امریکی اور صہیونی اثاثے اور مفادات اب جائز ہدف بن چکے ہیں اور اس جارحیت کے بعد کوئی سرخ لکیر نہیں ہے، سب کچھ ممکن ہے بشمول ایسے ہولناک منظرنامے جو پہلے کبھی زیر غور نہیں تھے۔
غاصب اسرائیل اور امریکی فوج نے آج ہفتے کے روز ایران پر وسیع پیمانے پر فضائی جارحیت شروع کی ہے، جس کے بعد قابض اسرائیل میں سائرن بج اٹھے اور خوفزدہ انتظامیہ نے اپنی فضائی حدود بند کر دی اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں اعتراف کیا کہ امریکہ نے ایران میں باقاعدہ فوجی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
آج ہفتے کے روز علی الصبح قابض اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تل ابیب نے ایران پر نام نہاد پیشگی حملہ شروع کر دیا ہے، جبکہ اس دوران پورے غاصب اسرائیل میں سائرن بج رہے تھے۔
