Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

ایران پر حملے کے مقاصد ناکام، اسرائیلی تجزیہ نگار مایوس

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی نے تہران کے خلاف قابض اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت کے فائدے اور واشنگٹن میں تل ابیب کی ساکھ پر اس کے اثرات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس ضمن میں عبرانی اخبار ہارٹز کے عسکری امور کے تجزیہ نگار عاموس ہریل کا کہنا ہے کہ اب تک اس جنگ کے نتائج حوصلہ شکن رہے ہیں۔

ہریل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے قریبی حلقوں نے 28 فروری سنہ 2026ء کو جارحیت کے آغاز پر جنگ کے تین بڑے اہداف مقرر کیے تھے جن میں ایرانی نظام کا خاتمہ، جوہری پروگرام کا صفایا اور بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کو ختم کرنا شامل تھا، تاہم ان میں سے اب تک ایک بھی ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام اپنی جگہ قائم ہے اور 440 کلوگرام افزودہ یورینیم کا مسئلہ بھی جوں کا توں موجود ہے، جبکہ ایران کا میزائل پروگرام جزوی طور پر ہی سہی مگر اب بھی فعال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوبارہ جارحیت کے آغاز کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ میں قابض اسرائیل کی ساکھ کے حوالے سے ہریل کا کہنا تھا کہ اسے شدید نقصان پہنچا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ تل ابیب کو ان الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک غیر ضروری جنگ میں دھکیلا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل میں جسے نام نہاد ہوم فرنٹ کہا جاتا ہے اسے بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے، باوجود اس کے کہ قابض فوج نے اس نقصان کو کم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں، جبکہ قابض اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ بھی عسکری تصادم میں الجھ چکا ہے جو شمالی بستیوں میں رہنے والے غاصب آباد کاروں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے اور وہاں کی تعمیر نو کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔

ہریل کے مطابق عسکری برتری اور تزویراتی نتائج کے درمیان ایک واضح خلیج موجود ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کی فضائی برتری اور ایران پر لگائے جانے والے کاری زخموں کو عملی فتح میں بدلنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الوقت صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، یہ صورتحال بالکل ویسی ہی ہے جیسی غزہ کی پٹی میں دیکھی گئی جہاں بنجمن نیتن یاھو کے حامی حتمی فتح کے بار بار وعدے کر کے وقت گزار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جیسی بڑی ریاست میں نظام کی تبدیلی کا ہدف رکھنا معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ موجودہ ایرانی قیادت اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو شکست کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ ان حملوں کے سامنے ثابت قدمی کو ہی اپنی فتح اور اندرونی طور پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دے رہی ہے۔

اسی تناظر میں ہریل نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کا بھی ذکر کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ بنجمن نیتن یاھو نے کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو اس جنگ میں شامل ہونے پر قائل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مندرجات امریکہ میں قابض اسرائیل کی ساکھ کے لیے گذشتہ چار دہائیوں کے دوران جوناتھن پولارڈ جاسوسی کیس کے بعد سب سے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکی صدر ہارنا پسند نہیں کرتے اور وہ اس جنگ میں کسی بھی ممکنہ ناکامی کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

تجزیہ نگار نے مزید کہا کہ بنجمن نیتن یاھو خود بھی اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہیں جیسا کہ انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد کیا تھا، نیتن یاھو کے ہمنوا میڈیا نے ابھی سے ہی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔

ہریل نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں آنے والی واحد کامیابی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے، اور یہ بھی کسی جامع معاہدے کے نتیجے میں نہیں ہوا جیسا کہ جنگ کے آغاز میں ایران کا مطالبہ تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan