تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جمہوریہ ایران کے ہلال احمر کے سربراہ پیر حسین کولیوند نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایران پر امریکی وصہیونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 6668 سویلین یونٹس متاثر ہوئے ہیں، جن میں 5535 رہائشی یونٹس، 14 طبی مراکز، 65 سکول، 1041 تجارتی یونٹس اور ہلال احمر کے 13 مراکز شامل ہیں، یہ معلومات ایرانی ٹیلی ویژن نے فراہم کی ہیں۔
ہلال احمر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں امدادی اور ریسکیو کی بڑی تعداد میں گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ امدادی کارکنوں اور سوسائٹی کے عملے کے کئی ارکان زخمی ہوئے۔
اناطولیہ ایجنسی کے مطابق سوسائٹی نے بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے علمبرداروں سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے جزیرہ قشم میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ پر حملہ کر کے ایک واضح اور بزدلانہ جرم کیا ہے جس سے 30 دیہاتوں کو پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ اس طرز عمل کی بنیاد امریکہ نے رکھی ہے نہ کہ ایران نے۔
ایرانی وزارت تعلیم کے ترجمان حسین صادقی نے ہفتے کے روز بتایا کہ سنہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک 195 طلبہ اور اساتذہ جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 68 سکولوں پر حملے کیے گئے۔
صادقی نے وضاحت کی کہ میناب شہر میں لڑکیوں کے سکول الشجرہ الطیبہ پر بمباری کے نتیجے میں 168 طالبات اور اساتذہ شہید اور 110 زخمی ہوئیں، جبکہ صوبہ فارس کے شہر لامرد میں بھی ایک استاد اور پانچ طلبہ شہید ہوئے، یہ تفصیلات ایرانی مہر ایجنسی نے جاری کیں۔
صحت کے شعبے کے حوالے سے ایرانی حکومت کی ترجمان میڈلین نے بتایا کہ اب تک جنگ میں 10 طبی کارکن شہید ہو چکے ہیں۔
صوبہ کردستان میں شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل فواد حسینی نے بیان دیا کہ صوبے کے 65 سکولوں کو حملوں میں نقصان پہنچا، انہوں نے بتایا کہ یہ سکول صوبے کے مختلف شہری علاقوں میں واقع ہیں اور ان کو پہنچنے والا نقصان درمیانے درجے سے لے کر شدید نوعیت کا ہے۔
