Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ایران جنگ پر عالمی ردعمل، مغربی ممالک میں شدید عوامی غصہ

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی ایک زوردار لہر اٹھی جو تیزی سے متعدد یورپی شہروں تک پھیل گئی۔ مظاہرین ان کے بقول ٹرمپ انتظامیہ کے آمرانہ رجحانات اور واشنگٹن کی جانب سے قابض اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔

یہ عوامی تحاریک نو کنگز (کوئی بادشاہ نہیں) نامی مہم کے بینر تلے منظم کی گئی ہیں جو سنہ 2025ء کے آغاز میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ان کے خلاف سب سے بڑی مزاحمتی تحریک بن کر ابھری ہے۔ اس مہم کے تحت ایک سال سے بھی کم عرصے میں امریکیوں کو تیسری بار سڑکوں پر نکلنے کی کال دی گئی ہے۔

مظاہرین کے منتظمین کے مطابق ایران پر مسلط کردہ جنگ کی شدت میں اضافے اور خطے میں پھیلتی ہوئی کشیدگی کے باعث ان احتجاجی پکار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ احتجاج صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور روم جیسے کئی یورپی شہروں میں بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف یکجہتی ریلیاں نکالی گئیں۔

خود امریکہ کے اندر ہزاروں مظاہرین اٹلانٹا سمیت کئی شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے جہاں ایک پارک میں جمع ہونے والے شہریوں نے انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ہم اپنی جمہوریت کھو رہے ہیں۔

مشی گن جیسی ریاستوں میں شدید سردی کے باوجود احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ دارالحکومت واشنطن میں لنکن میموریل کی جانب ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شریک افراد ٹرمپ کو اب رخصت ہونا چاہیے اور فاشزم کا مقابلہ کرو جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

اس تحریک نے اپنے پہلے قومی احتجاجی دن کا آغاز گذشتہ جون میں واشنطن میں ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ کے دوران کیا تھا جس میں نیویارک اور سان فرانسسکو جیسے شہروں سے لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔

منتظمین کے اندازوں کے مطابق اکتوبر میں ہونے والی دوسری بڑی تحریک میں تقریباً 70 لاکھ افراد نے حصہ لیا تھا۔ اب یہ منتظمین احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف 40 فیصد سے بھی نیچے گر چکا ہے۔

یہ احتجاجی لہر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آ رہی ہے جس کے باعث ریپبلکن پارٹی کے اندر کانگریس پر کنٹرول کھو دینے کے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔

یہ منظرنامہ امریکہ کے اندر موجود گہرے انقسام کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک طرف دوبارہ امریکہ کو عظیم بناؤ کا نعرہ لگانے والے ٹرمپ کے حامی ہیں اور دوسری طرف وہ مخالفین جو ان پر صدارتی حکم ناموں کے ذریعے حکومت کرنے، وزارت انصاف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور امیگریشن، ماحولیات و آزادیوں کے حوالے سے متنازع پالیسیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

اس مہم میں شریک تنظیم ڈیفنس میوچل کے نوید شاہ کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ملک کو جنگ کی دلدل میں مزید دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے اندر بھی صورتحال سنگین ہے جہاں تارکین وطن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خاندان بکھر رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق پورے ملک کے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں 3 ہزار سے زائد احتجاجی تقریبات منعقد کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ مینیسوٹا ریاست کو اس تحریک کا اہم مرکز تصور کیا جا رہا ہے جہاں امیگریشن پالیسیوں پر شدید بحث جاری ہے۔

اس تناظر میں معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین سینٹ پال شہر میں ایک کنسرٹ کی تیاری کر رہے ہیں جہاں وہ اپنا گیت شوارع مینیابولیس (مینیابولیس کی گلیاں) پیش کریں گے، جو انہوں نے ان دو امریکیوں کی یاد میں لکھا تھا جو امیگریشن پالیسیوں کے خلاف گذشتہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan