Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

ایران-اسرائیل کشیدگی برقرار، میزائل و ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران پر امریکی وصہیونی جارحیت کے چھبیسویں روز بھی فوجی کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ میدان میں محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور تنازعے کے فریقین کے درمیان جوابی حملوں میں شدت آگئی ہے۔ اسی دوران ایک مذاکراتی عمل کے حوالے سے محتاط اشارے بھی سامنے آرہے ہیں جس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہوئے ہیں اور مکالمے کی شرائط و طریقہ کار کے بارے میں واشنگٹن اور تہران کے موقف میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

قابض اسرائیل میں چینل 12 نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے میزائل حملوں کو روکا ہے جبکہ ایلات، القدس اور مقبوضہ فلسطین کے وسطی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر سائرن بج اٹھے ہیں تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

رپورٹس میں بالائی اور مغربی جلیل میں ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی بھی اطلاع دی گئی ہے جن میں سے ایک کھلے علاقوں میں گرا جبکہ کریات شمونہ میں بھی ایک میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں جہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وعدہ صادق 4 کی 80 ویں لہر

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی اسی ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے قابض اسرائیل کے اندر فوجی مقامات اور تزویراتی مراکز بشمول مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ حملے ایک وسیع تر مرحلے کا آغاز ہیں جس میں صہیونی فوج کے مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی میڈیا نے تہران کے مشرق اور مغرب میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی ہے جبکہ ایسی رپورٹس بھی ہیں کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عمارتوں اور ایک سکول کو نقصان پہنچا ہے دوسری طرف صہیونی فوج نے دارالحکومت تہران میں ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امید افزا مواقع

سیاسی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے انتہائی امید افزا مواقع کی بات کی ہے اور اسے بے مثال سنجیدگی قرار دیا ہے جبکہ تہران نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کی ہے تاہم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے موجودہ امریکی مندوبین کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو مسترد کر دیا ہے اور نائب صدر جے ڈی وانس کے ساتھ براہ راست رابطے کو ترجیح دی ہے اس دوران امریکی میڈیا سے 15 نکات پر مشتمل جنگ بندی کی ایک تجویز کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جو ابھی زیر غور ہے اور کسی ممکنہ ملاقات کے مقام کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔

لبنان

لبنان میں حزب اللہ اور صہیونی فوج کے درمیان محاذ آرائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جہاں حزب اللہ نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بالائی الجلیل اور سرحد کے گردونواح میں فوجی مقامات اور فوجیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے جن میں صفد کے قریب مقامات اور بیریا بیرک شامل ہیں اس کے علاوہ القوزح نامی بستی میں ایک میرکاوا ٹینک کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ صہیونی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے آپریشنز کو وسعت دینے اور اسلحہ خانوں و بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا اعلان کیا ہے جس کے ساتھ ساتھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی بستیوں پر فضائی حملے بھی کیے گئے۔

خلیج

علاقائی طور پر سعودی عرب نے فضائی حدود اور اہم تنصیبات کے تحفظ کی کوششوں کے تحت مشرقی خطے میں میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ بحرین نے سائرن بجنے کے بعد رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح کویتی فوج نے بھی اپنے دفاعی نظام کے ذریعے اسی طرح کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور متعدد ڈرونز مار گرانے کی تصدیق کی ہے جو کہ فضائی خطرات کے دائرے کی وسعت کا اشارہ ہے۔

عراق

عراق میں مسلح دھڑوں نے 24 گھنٹوں کے دوران 23 آپریشنز کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ اصل میدان جنگ سے باہر تصادم کے دائرے کو وسعت دینے والی متوازی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

اقتصادی محاذ پر ایرانی فوجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں حالات کے مستحکم ہونے تک توانائی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر رہنے کا امکان ہے کیونکہ کشیدگی جاری ہے اور سپلائی لائنوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan