تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے حوالے سے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض عبرانی ذرائع ابلاغ میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے عبرانی شعبے کے مطابق کچھ ذرائع یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ نتن یاہو زخمی یا ہلاک ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نتن یاہو کی آخری ویڈیو جو ان کے ذاتی سوشل میڈیا چینل پر نشر ہوئی تھی تقریباً تین روز پرانی ہے، جبکہ ان کی تازہ تصاویر بھی چار روز قبل کی بتائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سے ان کے حوالے سے جاری ہونے والا مواد صرف تحریری بیانات تک محدود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل نتن یاہو کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ کم از کم ایک ویڈیو اور بعض اوقات تین ویڈیوز تک جاری کی جاتی تھیں، تاہم گزشتہ تین دن کے دوران کسی نئی ویڈیو کے سامنے نہ آنے سے مختلف قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے۔
مزید برآں بعض عبرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دو روز قبل 8 مارچ کی شب نتن یاہو کی رہائش گاہ کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی، خصوصاً خودکش ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کا مجوزہ دورۂ اسرائیل اچانک منسوخ کر دیا گیا۔
ادھر فرانسیسی صدارتی محل ایلیزی پیلس نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور نتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی خبر جاری کی، تاہم اس گفتگو کی تاریخ یا تفصیلات واضح نہیں کی گئیں اور صرف اس کا تحریری بیان جاری کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام اطلاعات ابھی تک غیر مصدقہ ہیں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں زیر گردش ہیں۔