غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی پٹی سے مصر کی جانب رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے مریضوں کے طبی انخلا کی کارروائیاں تا حکم ثانی معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ گذشتہ روز پیر کو قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے ادارے کے ایک اہلکار کی شہادت کے بعد کیا گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسوس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت غزہ میں خدمات فراہم کرنے والے ایک کنٹریکٹ ملازم کی پیر کے روز ایک سکیورٹی واقعے میں شہادت کی تصدیق پر گہرے صدمے میں ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ واقعے کے وقت تنظیم کے دو دیگر ملازمین بھی وہاں موجود تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد تنظیم نے رفح گزرگاہ کے ذریعے غزہ سے مصر تک مریضوں کے طبی انخلا کا عمل روک دیا ہے اور یہ معطلی اگلے حکم تک برقرار رہے گی۔
قابض اسرائیلی افواج نے گذشتہ روز پیر کو عالمی ادارہ صحت کی ایک گاڑی اور ایک تجارتی گاڑی پر براہ راست فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور 4 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
ٹیڈروس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تنظیم ان تمام ساتھیوں کی بے حد مشکور ہے جو خطرات کے باوجود دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ غزہ کے عوام کو مطلوبہ طبی نگہداشت تک رسائی حاصل ہو سکے۔
عالمی ادارے کے سربراہ نے شہریوں اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں مصروف عملہ کے تحفظ کی اپیل کرتے ہوئے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ امن ہی بہترین دوا ہے۔
غزہ کی پٹی کے باسیوں کو مناسب طبی سہولیات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جن میں قابض اسرائیل کی جارحانہ جنگ کے زخمیوں کے علاوہ دائمی امراض اور کینسر کے مریض بھی شامل ہیں۔
رفح گزرگاہ غزہ کی پٹی سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے جو مقبوضہ علاقوں سے گزرے بغیر رسائی فراہم کرتا ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے مئی سنہ 2024ء میں غزہ پر حملے کے دوران اس گزرگاہ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور تب سے یہ گزرگاہ مسلسل بند چلی آ رہی ہے۔
