Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

انسانی حقوق مرکز کی رپورٹ: غزہ میں مسلسل قتل عام جاری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ انسانی حقوق مرکز نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب اسرائیل مسلسل 134 ویں دن بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ خلاف ورزیاں ایک منظم پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں جس میں دانستہ قتل، براہ راست فائرنگ، فضائی و توپ خانے کی بمباری اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے جیسی سفاکیت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی پروٹوکول کو سبوتاژ کرتے ہوئے امدادی سامان اور ایندھن کی فراہمی میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

مرکز نے اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس کی فیلڈ ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ان نہ رکنے والی خلاف ورزیوں کی پیشہ وارانہ اور قانونی معیارات کے مطابق دستاویزی توثیق کر رہی ہیں۔ گذشتہ 133 دنوں کے جمع شدہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غاصب اسرائیلی فوج نے یومیہ اوسطاً 13.5 خلاف ورزیاں کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاہدے کو اس کے اصل مقصد سے خالی کر کے جارحیت جاری رکھنے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بیان میں آج اتوار 22 فروری سنہ 2026ء کی صبح دستاویزی شکل میں محفوظ کیے گئے ایک جرم کی نشاندہی کی گئی، جس میں شمالی غزہ پٹی کے علاقے بیت لاہیا سکوائر کے قریب غاصب اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے 27 سالہ خاتون بسمہ عرام بنات شہید ہو گئیں۔

مرکز نے ایک اور جرم کا ذکر کیا جو گذشتہ روز ہفتہ 21 فروری کی صبح پیش آیا، جب قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں بلاک نمبر 2 میں اپنے گھر کی خبر گیری کے لیے جانے والے 29 سالہ نوجوان ماجد نبیل فواد ابو معروف کو بم سے نشانہ بنایا۔ وہ جسم کے مختلف حصوں میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ یہ دونوں جرائم فضائی و توپ خانے کی بمباری اور گھروں کی مسماری کے اس منظم سلسلے کا حصہ ہیں جو پوری غزہ پٹی میں جاری ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ غاصب اسرائیل معاہدے کے تحت انخلاء کی لائنوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وسیع علاقوں پر اپنا عسکری تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ یہ سیز فائر معاہدہ سنہ 2025ء اکتوبر 10 سے نافذ العمل ہے۔

بیان کے مطابق معاہدے کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 642 ہو چکی ہے، جس کا اوسط یومیہ تقریباً 4.8 شہداء بنتا ہے۔ ان میں 197 بچے، 85 خواتین اور 22 معمر افراد شامل ہیں، جو کل شہداء کا 47.2 فیصد ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 1643 تک پہنچ گئی ہے، جس میں 504 بچے، 330 خواتین اور 89 بزرگ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت تحفظ یافتہ طبقات، بالخصوص خواتین اور بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے اس نمونے کو بے نقاب کرتے ہیں جو جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی فوجداری احتساب کا متقاضی ہے۔

انسانی حقوق مرکز نے نشاندہی کی کہ یہ خلاف ورزیاں صرف قتل و غارت تک محدود نہیں بلکہ غاصب اسرائیل اس معاہدے کی بھی پاسداری نہیں کر رہا جس کے تحت روزانہ 600 ٹرک بشمول 50 ایندھن کے ٹرک غزہ بھیجے جانے تھے۔ حقیقت میں صرف 43 فیصد ٹرک اور محض 15 فیصد ایندھن ہی غزہ پہنچ پایا ہے، جس کی وجہ سے بنیادی خدمات معطل اور انفراسٹرکچر کی مرمت کا کام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مزید برآں، رفح گزرگاہ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت میں بھی من مانی پابندیاں عائد ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کی شرح محض 40.3 فیصد رہی ہے۔

مرکز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ تمام حقائق اس بات کی دلیل ہیں کہ غاصب اسرائیل اہل غزہ کی نسل کشی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں براہ راست قتل سے لے کر زندگی کی بنیادی ضروریات کی تباہی تک سب شامل ہے۔ یہ پالیسی ایک ایسے عالمی خاموشی کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے جو مجرموں کو سزا سے بچنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہے۔

غزہ مرکز نے عبوری مرحلے کے لیے قائم کردہ ڈھانچوں، بشمول امن کونسل، ایگزیکٹو کونسل اور غزہ مینجمنٹ کی قومی اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی مؤثر مداخلت یا واضح موقف کی عدم موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو شہریوں کو بغیر کسی حقیقی تحفظ کے بے یار و مددگار چھوڑنے کے مترادف ہے۔

مرکز نے عالمی برادری اور معاہدے کے ضامن فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں، بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنائیں اور ان جرائم کے ذمہ داروں کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں لانے کے لیے آزادانہ تحقیقات کا آغاز کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan