Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

انسانی بحران میں اضافہ، غزہ میں خوراک اور امداد کی شدید قلت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امجد الشوا نے حالیہ عرصے میں امداد کی مقدار میں ہونے والی تشویشناک کمی کے باعث انسانی صورتحال کے مزید ابتر ہونے کےخطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی پر عائد پابندیوں کا تسلسل غزہ میں قحط کی ہولناک واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔

امجد الشوا نے کہا کہ غزہ میں انسانی حالات لمحہ بہ لمحہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں درپیش ہے جب یہ علاقہ ابھی تک قابض اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی سفاکانہ جنگ کے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وسیع پیمانے پر انسانی بحران سے سنبھل نہیں پایا ہے۔

انہوں نے “العربی الجدید” سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ گذشتہ فروری کے مہینے میں غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور گزرگاہوں کو وقفے وقفے سے بند رکھا گیا جس کے نتیجے میں امدادی سامان کے ذخائر ختم ہو گئے اور بنیادی اشیاء خصوصاً اشیائے خوردونوش، پناہ گاہوں کے سامان اور طبی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

امجد الشوا نے نشاندہی کی کہ موجودہ بحران کی اصل وجہ قابض اسرائیل کا وہ دانستہ رویہ ہے جس کے تحت وہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد کم کر کے اور اشیائے ضرورت پر پابندیاں عائد کر کے انسانی المیے کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی گزرگاہوں کو مکمل بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد کرم ابو سالم گزرگاہ کو محض جزوی طور پر کھولا گیا جبکہ رفح گزرگاہ اب بھی مریضوں کے انخلاء کے لیے بند پڑی ہے جس نے انسانی مصائب میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

امجد الشوا کے مطابق اس وقت غزہ کی پٹی میں جو امداد پہنچ رہی ہے وہ اس مقدار کے ایک تہائی سے بھی کم ہے جس پر 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہونے والے سیز فائر معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا جس کے تحت روزانہ 600 ٹرکوں کے داخلے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت داخل ہونے والے ٹرکوں کی اصل تعداد عموماً روزانہ 200 سے زائد نہیں ہوتی جبکہ موجودہ امداد آبادی کی اصل ضروریات کا صرف 30 سے 40 فیصد ہی پورا کر پا رہی ہے حالانکہ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق غزہ کو یومیہ ایک ہزار سے زائد امدادی ٹرکوں کی اشد ضرورت ہے۔

امجد الشوا نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی پابندیاں صرف ٹرکوں کی تعداد کم کرنے تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں سبزیوں، پروٹین کے ذرائع، پناہ گاہوں کے سامان، خیموں، صفائی ستھرائی کے سامان اور فوڈ باکسز کے داخلے پر کڑی پابندیاں شامل ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں جس سے قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے اور بے شمار خاندان اپنی بنیادی ضروریات خریدنے کی سکت سے محروم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ کی پٹی کی تقریباً 90 فیصد آبادی اس وقت فلسطینی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی فراہم کردہ امداد پر سانسیں لے رہی ہے کیونکہ علاقے میں غذائی اشیاء کا کوئی حقیقی ذخیرہ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے اس المناک پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی کہ انسانی حقوق کے ادارے روزانہ کی بنیاد پر سوءِ تغذیہ کے نئے کیسز خصوصاً معصوم بچوں، خواتین اور حاملہ خواتین میں ریکارڈ کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس بحران کے اثرات فوڈ سیکیورٹی، صحت، پانی اور تحفظ جیسے تمام حیاتیاتی شعبوں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً پندرہ لاکھ فلسطینی جنگ کے دوران اپنے گھروں سے محروم ہونے کے بعد انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے اکثر خیموں، پناہ گزین مراکز یا جزوی طور پر تباہ شدہ مکانات کے ملبے پر مقیم ہیں۔

امجد الشوا نے خبردار کیا کہ اگر امداد کی فراہمی پر پابندیاں برقرار رہیں تو غزہ میں قحط کا منظر نامہ جنگ کے ایام سے بھی زیادہ ہولناک شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام گزرگاہیں کھولنے، انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینے اور امداد کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قابض اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پناہ گاہوں کا سامان، تعمیراتی مواد، پورٹیبل ہاؤسنگ یونٹس اور پانی و نکاسِ آب کے نیٹ ورک کی بحالی کے لیے ضروری آلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا عالمی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ فوڈ سیکیورٹی کی درجہ بندی کمیٹی (آئی پی سی) نے اگست سنہ 2025ء میں شمالی غزہ کے شہر غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ یہ قحط غزہ کی پٹی کے وسطی شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

دسمبر سنہ 2025ء میں مذکورہ کمیٹی نے سیز فائر معاہدے کے بعد امدادی اور تجارتی سامان کی رسد میں بہتری پر قحط کے خاتمے کی اطلاع دی تھی تاہم اب دوبارہ یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ قابض اسرائیل کی مسلسل ریشہ دوانیوں کے باعث آبادی کی بڑی اکثریت تاحال تباہ کن حالات میں غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan