(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے 37 بین الاقوامی تنظیموں کو غزہ کی پٹی میں کام سے روکنے کا فیصلہ تباہ حال غزہ کے باسیوں تک زندگی بچانے والی امداد کی رسائی میں سنگین رکاوٹ بنے گا۔
انسانی امداد سے متعلق یورپی کمشنر حجہ لحبیب نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ یورپی یونین کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ انسانی تنظیموں کی رجسٹریشن کا قانون اپنی موجودہ شکل میں قابلِ اطلاق نہیں ہے۔
لحبیب کا یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا جب قابض اسرائیلی حکام نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر بین الاقوامی تنظیمیں بدھ تک اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرستیں جمع نہ کرائیں تو سنہ 2026ء میں انہیں غزہ پٹی میں کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔
یورپی کمشنر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی انسانی امدادی قانون میں کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں اور امداد ہر صورت ان لوگوں تک پہنچنی چاہیے جو اس کے محتاج ہیں۔
قابض اسرائیل نے تنظیموں کو 31 دسمبر تک نئے فریم ورک کے تحت رجسٹریشن کی مہلت دی تھی۔ قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کا مقصد فلسطینی علاقوں میں دشمن یا دہشت گردی کی حمایت کرنے والے عناصر کو کام سے روکنا ہے نہ کہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا۔
منگل کے روز قابض اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ جن تنظیموں نے اپنے فلسطینی ملازمین کے ناموں کی فہرستیں فراہم کرنے سے انکار کیا تاکہ ان کے بقول دہشت گردی سے کسی بھی تعلق کو خارج کیا جا سکے ان کے لائسنس یکم جنوری سے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور انہیں یکم مارچ تک اپنی تمام سرگرمیاں بند کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
قابض حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی تنظیمیں اس پابندی کی زد میں آئیں گی تاہم انہوں نے خاص طور پر ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے قواعد کی خلاف ورزی کی اور ایسے دو افراد کو ملازمت دی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا فلسطینی تنظیموں سے تعلق ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز غزہ میں کام کرنے والی سب سے بڑی طبی تنظیموں میں شامل ہے جو تقریباً پانچ لاکھ افراد کو طبی خدمات فراہم کرتی ہے اور پانی کی فراہمی سمیت جان بچانے والی امداد مہیا کرتی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اس کے کام کی معطلی غزہ میں ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے گی خاص طور پر ایسے وقت میں جب پورا طبی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
قابض اسرائیلی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی 25 نومبر تک انسانی تنظیموں کی جانب سے جمع کرائی گئی 14 درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔
انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے قواعد غزہ میں امداد کی تقسیم پر انتہائی منفی اثرات مرتب کریں گے جبکہ امدادی ادارے اس امر کی تصدیق کر چکے ہیں کہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد کی مقدار پہلے ہی ناکافی ہے۔
اگرچہ سیز فائر معاہدے میں جو 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوا تھا روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شق شامل ہے مگر اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والے انسانی امداد کے ٹرکوں کی تعداد اب بھی 100 سے 300 کے درمیان ہی ہے۔
