Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا‘ کے خلاف اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جائیں گے، گوتیریس

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتيريس نے قابض اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کی امداد اور روزگار کے ادارے ’انروا‘ کو نشانہ بنانے والے قوانین منسوخ نہ کیے اور ضبط کی گئی جائیدادیں اور اثاثے واپس نہ کیے تو اسے عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

گوتيريس نے آٹھ جنوری کی تاریخ والے ایک تحریری مراسلے میں قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو کو بتایا کہ اقوام متحدہ ان اقدامات پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی جو بین الاقوامی قانون کے تحت قابض اسرائیل کی ذمہ داریوں سے براہ راست متصادم ہیں اور اس لیے ان سے بلا تاخیر دستبردار ہونا لازم ہے۔

قابض اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ نے اکتوبر سنہ 2024ء میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انروا کو قابض اسرائیل میں کام کرنے سے روک دیا گیا اور قابض اسرائیلی حکام پر اس ادارے سے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانون میں گذشتہ ماہ مزید ترمیم کرتے ہوئے انروا کی تنصیبات کو بجلی یا پانی فراہم کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ ماہ مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں انروا کے دفاتر پر بھی قبضہ کر لیا تھا حالانکہ اقوام متحدہ بیت المقدس کے مشرقی حصے کو قابض اسرائیل کے زیر قبضہ شہر تسلیم کرتا ہے جبکہ قابض اسرائیل پورے القدس کو اپنی نام نہاد سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

غوتيريس کے خط کے جواب میں اقوام متحدہ میں قابض اسرائیل کے سفیر دانی دانون نے کہا کہ ہم سیکریٹری جنرل کی دھمکیوں سے پریشان نہیں ہیں۔ ان کے بقول انروا کے ملازمین کے دہشت گردی میں مبینہ ملوث ہونے کے ناقابل تردید الزامات سے نمٹنے کے بجائے سیکریٹری جنرل قابض اسرائیل کو دھمکا رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کا دفاع نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کا دفاع ہے جسے وہ دہشت گردی میں ملوث قرار دیتے ہیں۔

اس سے قبل کنیسٹ نے انروا کے دفاتر کی بجلی اور پانی منقطع کرنے سے متعلق قانون کی حتمی منظوری دی تھی جبکہ قابض اسرائیلی وزیر توانائی اور انفراسٹرکچر ایلی کوہین نے اس فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انروا مزاحمتی تحریک حماس کی عملی بازو ہے۔

اکتوبر سنہ 2024ء میں کنیسٹ نے انروا کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی کی حتمی منظوری دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے بعض ملازمین نے 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے میں حصہ لیا۔ اس وقت قابض اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ انروا کے اہلکاروں نے طوفان الاقصیٰ میں شرکت کی تاہم انروا نے ان الزامات کو بارہا مسترد کیا اور اقوام متحدہ نے اپنے ادارے کی غیر جانبداری کے عزم کی تصدیق کی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی عوام کو انروا کی خدمات کی شدید ترین ضرورت ہے کیونکہ قابض اسرائیل نے امریکہ کی سرپرستی میں 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پر نسل کش جنگ مسلط کر رکھی تھی جو 10 اکتوبر کو سیز فائر کے نفاذ تک جاری رہی اور اس دوران فلسطینی عوام کو بے پناہ انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan