Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا تنصیبات پر حملے ناقابل قبول، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی انروا کے ہیڈکوارٹر کے اندر قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے کی جانے والی مسماری کی کارروائیوں نے اقوام متحدہ اور فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خطرناک خلاف ورزی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے میں اقوام متحدہ کے کردار پر براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انروا نے شیخ جراح میں اپنے دفاتر پر اس غیر معمولی حملے کی سخت مذمت کی جہاں قابض اسرائیل کی افواج نے ایجنسی کے کمپلیکس پر دھاوا بول کر اندر مسماری اور بلڈوزنگ شروع کی۔ یہ کارروائی قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کی نگرانی میں انجام دی گئی۔

انروا کے ترجمان جوناتھن فولر نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج صبح سات بجے کے کچھ دیر بعد ایجنسی کے کمپلیکس میں داخل ہوئیں اور بلڈوزروں کے ذریعے اندر موجود تنصیبات کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام انروا اور اس کے دفاتر پر ایک بے مثال حملہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کو حاصل مراعات اور استثنیات کی بھی سنگین پامالی ہے۔ یہ بات انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے کہی۔

دوسری جانب انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے شیخ جراح میں ایجنسی کی عمارتوں کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج قرار دیا۔

لازارینی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ واقعہ بین الاقوامی قانون کی کھلی اور دانستہ خلاف ورزی کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے جس میں اقوام متحدہ کو حاصل مراعات اور تحفظات بھی شامل ہیں اور یہ سب قابض اسرائیل کی جانب سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آج علی الصبح قابض اسرائیل کی افواج نے القدس میں انروا کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولا اور اس کے اندر موجود عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ یہ سب قانون سازوں اور قابض اسرائیل کی حکومت کے ایک رکن کی موجودگی میں ہوا جو اقوام متحدہ کی کسی ایجنسی اور اس کی عمارتوں پر ایک بے مثال حملہ ہے۔

لازارینی نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل بین الاقوامی طور پر اقوام متحدہ کی عمارتوں کے احترام اور تحفظ کا پابند ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سنہ 14 جنوری کو قابض اسرائیل کی افواج نے مقبوضہ مشرقی القدس میں انروا کے ایک صحت مرکز پر دھاوا بول کر اسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں ایجنسی کی تنصیبات بشمول صحت اور تعلیمی عمارتوں کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

کمشنر جنرل نے ان اقدامات کو ایک وسیع پیمانے پر گمراہ کن مہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ آج جو کچھ انروا کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کل کسی اور عالمی ادارے یا سفارتی مشن کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے چاہے وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہو یا دنیا کے کسی اور حصے میں۔

نیا سنگین جرم

اسی تناظر میں فلسطینی غیر سرکاری تنظیموں کے نیٹ ورک نے قابض اسرائیل کی اس کارروائی کو ایک نئی سنگین جرم قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ اس جرم کے تحت مقبوضہ القدس میں انروا کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ کیا گیا اس کی مرکزی عمارت میں موجود متعدد دفاتر کو مسمار کیا گیا اور اس پر قابض اسرائیل کا پرچم لہرایا گیا۔

نیٹ ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دھاوا اور مسماری اور اس کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ دراصل انروا کے کام کو ختم کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو مٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی قرارداد 194 دیتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کو نشانہ بنانا شمالی مغربی کنارے کے فلسطینی کیمپوں کے خلاف جاری مسلسل کارروائیوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد انہیں اس حیثیت سے کمزور کرنا ہے کہ وہ نکبہ کے زندہ گواہ ہیں۔

نیٹ ورک نے ان جرائم کو روکنے کے لیے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اس ایجنسی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جسے اس نے 77 برس قبل قائم کیا تھا اور جو اس کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کو جوابدہ بنانے انروا کے تحفظ اور اس کی مالی امداد کے تسلسل کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ ایجنسی فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنی خدمات فراہم کرتی رہے۔

نیٹ ورک نے انروا کے عملے کے تحفظ اور ایجنسی کے دستاویزات آرکائیوز اور ریکارڈ کی حفاظت کی اہمیت پر بھی زور دیا جن میں پناہ گزینوں اور ان کے حقوق سے متعلق بنیادی معلومات موجود ہیں اور خبردار کیا کہ ان کا ضائع ہونا یا تباہ ہونا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ انروا نے سنہ 14 جنوری کو خبردار کیا تھا کہ مقبوضہ القدس میں اس کی دہائیوں پر محیط موجودگی کے خاتمے کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ قابض اسرائیل ایسے شرمناک اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مشرقی القدس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کے تحت اس کے فرائض کی ادائیگی کو روکنا ہے جبکہ یہ علاقہ قابض اسرائیل کی خود ساختہ خودمختاری میں شامل نہیں۔

سنہ 2025ء کے اختتام پر قابض اسرائیل کی کنیسٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت انروا کے دفاتر کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید اور مذمت سامنے آئی۔

اسی طرح کنیسٹ نے سنہ اکتوبر 2024ء میں قابض اسرائیل کے اندر انروا کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی منظوری دی تھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایجنسی کے بعض ملازمین سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں ملوث تھے۔ اقوام متحدہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ انروا غیر جانبداری کے اصول پر مکمل طور پر کاربند ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan