(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سمندر پار فلسطینیوں کی ترجمان کانفرنس کے نائب سربراہ ماجد الزیر نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کانفرنس کو وزارتِ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ فلسطینی عوام کے خلاف امریکہ کی اندھی اور جانبدارانہ پالیسی میں ایک نیا اضافہ ہے جو قابض اسرائیل اور اس کی جابرانہ غیر قانونی اور غیر انسانی پالیسیوں کی مکمل سرپرستی کا تسلسل ہے۔
ماجد الزیر نے الجزیرہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں اس فیصلے کو فلسطینی عوام کی سرگرمیوں اور ان کی اس مسلسل جدوجہد کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جو وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں اپنے سلب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی قدم قانونی معیار کے اس کم از کم درجے پر بھی پورا نہیں اترتا جس کے تحت فلسطینی عوام اور ان کے اداروں کی حقیقی سرگرمیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جا سکے۔
ماجد الزیر نے واضح کیا کہ کانفرنس فلسطینیانِ خارجہ ایک عوامی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر وہاں کام کرتا ہے جہاں جہاں فلسطینی عوام موجود ہیں یہ مختلف سرگرمیاں اور پروگرام منعقد کرتا ہے اور اس کے اراکین اور وابستگان فلسطینی معاشرے کے تمام طبقات مختلف نسلوں اور تمام عمروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ادارہ فلسطینی عوام کی اس اجتماعی تحریک کا حصہ ہے جو اپنے جائز حقوق کی واپسی کے لیے سرگرم ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے گذشتہ روز بدھ کو کانفرنس فلسطینیانِ خارجہ پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں سرگرم چھ فلاحی تنظیموں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا اور ان پر حماس کے حق میں کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ ادارے بظاہر فلسطینی شہریوں کو طبی امداد فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ القسام بریگیڈز کی حمایت کرتے ہیں جو حماس کا عسکری ونگ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیصلے میں کانفرنس فلسطینیانِ خارجہ بھی شامل ہے جسے القسام بریگیڈز کی خفیہ حمایت اور گمراہ کن چندہ مہمات چلانے کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں ڈالا گیا جس کے باعث شہریوں کے لیے بھیجی جانے والی امداد متاثر ہوتی ہے۔
اپنی ویب سائٹ پر امریکی وزارتِ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ کانفرنس فلسطینیانِ خارجہ حالیہ فلوٹیلا سرگرمیوں کے بڑے منتظمین میں شامل رہی ہے جن کا مقصد غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کے مسلط کردہ سکیورٹی محاصرے کو توڑنا تھا۔ وزارت نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس ادارے کی بنیاد حماس کے بین الاقوامی تعلقات کے دفتر سے وابستہ عناصر نے رکھی اور اسے اسی دفتر نے چلایا جس کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق تھے۔
وزارتِ خزانہ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ حماس تنظیم کے اسٹریٹجک اور عملی پہلوؤں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے تحریک سے وابستہ اہم شخصیات کو تنظیم کے کلیدی عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔
بیان میں عادل دوغمان اور ماجد الزیر کے نام بھی لیے گئے جو کانفرنس کی تنظیم میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور جنہیں وزارتِ خزانہ پہلے ہی اکتوبرسنہ 2024ء میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکی تھی۔ مزید یہ کہ نئے فیصلے میں زاہر بیراوی کو بھی شامل کیا گیا ہے جو تنظیم میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اس کی جنرل سیکرٹریٹ کے رکن ہیں اور بانی اراکین میں شامل ہیں۔
