Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

امریکہ میں مسیحی صیہونیت کے پردے میں فلسطینیوں کے خلاف نظریاتی مہم تیز

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد اب ان کی ایمانی، تاریخی اور وجودی شناخت پر وار کرنے کے لیے امریکی سرزمین پر ایک انتہائی منظم اور زہریلی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ “مسیحی صیہونیت” کے لبادے میں چھپے اس بھیانک منصوبے کا مقصد ایوینجلیکل مسیحی گروہوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولنا ہے کہ “فلسطینی شناخت مسیحیت کے مقدس اصولوں کے منافی ہے”۔ یہ مہم ایک ایسے نازک موڑ پر چلائی جا رہی ہے جب غزہ کی پٹی میں جاری غاصبانہ اسرائیلی سفاکیت نے امریکی نوجوانوں اور جامعات کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہاں فلسطین کے حق میں ایک عظیم عوامی بیداری جنم لے چکی ہے۔

اس مذموم مہم کے پیچھے وہی مکروہ چہرے کارفرما ہیں جنہوں نے ماضی میں بڑی سیاسی مہمات کی باگ ڈور سنبھالی۔ امریکی میڈیا ایڈوائزر براڈ پریسکائل کی نگرانی میں ایک امریکی کمپنی غاصب اسرائیل کے اشاروں پر رقص کر رہی ہے۔ اخبار ’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق کروڑوں ڈالر کے عوض ضمیروں کی خرید و فروخت کا یہ کھیل گرجا گھروں میں جانے والے سادہ لوح مسیحیوں کو گمراہ کرنے کے لیے کھیلا جا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کے نصب العین اور ان کے حقِ خودارادیت کو ایک “مذہبی گناہ” بنا کر پیش کیا جا سکے۔

جھوٹ کے مراکز، صیہونی ایجنڈے کی تشہیر کرتی ویب سائٹس

قابض صہیونی ریاست نے اپنی عالمی رسوائی کو چھپانے اور بنجمن نیتن یاھو کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے سات سے زائد ایسی ویب سائٹس کا جال بچھا رکھا ہے جو تاریخ کو مسخ کرنے کا مکروہ فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ ان سائٹس پر یہ سفاکانہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلسطینی وجود محض ایک سیاسی ایجاد ہے، تاکہ غاصبانہ بستیوں کی تعمیر اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری اسرائیلی قبضے کو “تاریخی ضرورت” قرار دیا جا سکے۔

انہی میں سے ایک ویب سائٹ (Culturavia) مسیحی اخلاقیات کا واسطہ دے کر یہ مضحکہ خیز سوال اٹھاتی ہے کہ ایک مسیحی فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کیسے کر سکتا ہے؟ اس کا مقصد صرف انسانی ذہنوں کو ہی نہیں بلکہ جدید دور کے مصنوعی ذہانت (AI) کے پروگراموں کو بھی اس طرح سے فیڈ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی حق کا متلاشی فلسطین کے بارے میں سوال کرے، تو اسے جواب میں صرف صیہونی جھوٹ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا دفاع ہی ملے۔

مغربی اقدار کا لبادہ اور سفاکیت کا دفاع

ان پروپیگنڈا پلیٹ فارمز میں (Allyvia) نامی سائٹ پیش پیش ہے جو غاصب اسرائیل کو “مغربی اقدار کا آخری مورچہ” قرار دے کر امریکہ سے ملنے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد کا دفاع کرتی ہے۔ اس مہم کا اصل مقصد ان امریکی آوازوں کو دبانا ہے جو غزہ کی پٹی میں جاری بچوں کے قتلِ عام پر اپنی حکومت سے سوال کر رہی ہیں۔

جبکہ (PaxPoint) اور (Justorium) جیسی ویب سائٹس “ابراہیمی معاہدوں” کا راگ الاپ کر غاصب اسرائیل کو امن کا علمبردار اور مظلوم فلسطینیوں کو انتہا پسند ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ سنہ 2025 ءکے اواخر میں سامنے آنے والی دستاویزات چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہیں کہ غاصب اسرائیل نے اپنی ڈوبتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اشتہاری کمپنیوں کو کروڑوں ڈالر کے خون بہا کے طور پر پیش کیے ہیں۔

امریکی ضمیر کی بیداری اور بدلتا ہوا منظرنامہ

قابض اسرائیل کی ان تمام تر سازشوں کے باوجود امریکی جامعات میں اٹھنے والا احتجاجی سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ویت نام کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی طلبہ اور اساتذہ اپنی ہی حکومت کے خلاف فلسطینیوں کے حق میں سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ اگست سنہ 2025 ءکے سروے نتائج نے غاصب اسرائیل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا ہے، جہاں 60 فیصد امریکیوں نے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی کھلے عام مذمت کی ہے۔

امریکی محقق پیٹر بینارٹ کے مطابق، نوجوان یہودی نسل اب اس جبری وفاداری کو مسترد کر رہی ہے جو انہیں انسانی حقوق کی پامالی پر مجبور کرے۔ وہ اب اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور فلسطینیوں پر ڈھائی جانے والی سفاکیت کو اپنی اخلاقی اقدار پر ایک بدنما داغ سمجھتے ہیں۔

مسیحی صیہونیت: مذہب کے نام پر انسانیت کا قتل

تحقیق کار ڈونلڈ فاگنر نے اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ مہم دراصل “مسیحی صیہونیت” کے اس بوسیدہ فکری ڈھانچے کی پیداوار ہے جو ارضِ فلسطین سے مسیحی فلسطینیوں کے صدیوں پرانے وجود کو ہی مٹانا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسا متعصب نظریہ ہے جو آسمانی کتابوں کی تائید کے نام پر زمین پر بسنے والے بے گناہ انسانوں کے لہو کو جائز قرار دیتا ہے۔

قابض اسرائیل کی یہ مہم محض ایک میڈیا ٹرائل نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے، جس میں مظلوم فلسطینیوں کی حق پر مبنی پکار کو “مذہبی مخالفت” کا رنگ دے کر کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ کے یہ پلندے حق کی ایک چھوٹی سی کرن کے سامنے کبھی نہیں ٹھہر سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan