Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

امدادی ٹیموں پر گولیوں کی بارش، رفح میں دل دہلا دینے والا سانحہ

 رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک مشترکہ بین الاقوامی تحقیقاتی رپورٹ نے غاصب اسرائیل کے اس بھیانک چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح میں امدادی کارکنوں پر تقریبًا ایک ہزار گولیاں برسائی گئیں۔ صوتی و بصری مواد کے تجزیے اور عینی شاہدین کی شہادتوں سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق امدادی ٹیموں کو انتہائی قریب سے نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یہ لرزہ خیز قتلِ عام سنہ 2025ء میں اس وقت پیش آیا جب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کارکن اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

آزاد تحقیقی گروپوں ‘ایئر شاٹ’ اور ‘فورینسک آرکیٹیکچر’ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ متعدد امدادی کارکنوں کو فیلڈ میں بدترین سفاکیت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا گیا، جبکہ ان میں سے کم از کم ایک کارکن کو محض ایک میٹر کے فاصلے سے گولی ماری گئی۔

غاصب اسرائیلی فوج نے 23 مارچ سنہ 2025 کو رفح میں امدادی شعبے سے وابستہ 15 ملازمین اور کارکنوں کا قتلِ عام کیا تھا۔ اس مجرمانہ کارروائی میں ہلال احمر فلسطین کے آٹھ اہلکار، فلسطینی سول ڈیفنس کے چھ ارکان اور اقوام متحدہ کی ایک امدادی ایجنسی (انروا) کا ایک ملازم شہید ہوا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے پر عالمی سطح اور فلسطین میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا، جبکہ ہلال احمر نے اسے جنگ کے سیاہ ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا تھا۔

غاصب اسرائیل نے پہلے تو اپنے ایک بیان میں امدادی ٹیموں پر فائرنگ کا اعتراف کیا، لیکن ساتھ ہی یہ اعلان کر کے عالمی قوانین کا مذاق اڑایا کہ کسی بھی فوجی کا کورٹ مارشل یا احتساب نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف ایک افسر کو فوجی سروس سے معطل کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ بعد ازاں جب شہداء کی لاشیں ان کی تباہ شدہ گاڑیوں کے قریب ایک اجتماعی قبر سے برآمد ہوئیں اور امدادی کارکنوں کے موبائل فونز سے ویڈیوز سامنے آئیں، تو غاصب اسرائیلی فوج نے بار بار اپنے بیانات بدلے۔ ایک داخلی فوجی تحقیقات کے ذریعے اس مجرمانہ فعل پر پردہ ڈالنے اور قاتل یونٹس کو بری الذمہ قرار دینے کی مذموم کوشش بھی کی گئی۔

میدانِ عمل کے حقائق کی دوبارہ ترتیب

موجودہ تحقیقات میں ویڈیو، آڈیو ریکارڈنگز، سیٹلائٹ تصاویر اور دو بچ جانے والے خوش نصیبوں کے انٹرویوز کی مدد سے واقعے کو منٹ بہ منٹ ترتیب دیا گیا ہے۔ تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ امدادی کارکنوں کو ایک گھات لگا کر کیے گئے حملے کا نشانہ بنایا گیا جو دو گھنٹے تک جاری رہا، حالانکہ وہاں موجود فوجیوں کو کسی قسم کی فائرنگ کا سامنا نہیں تھا۔

ریکارڈنگز میں کم از کم 910 گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں سے 844 گولیاں محض ساڑھے پانچ منٹ کے دوران چلائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 93 فیصد گولیاں براہِ راست ایمرجنسی گاڑیوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنا کر چلائی گئیں، جس میں کم از کم پانچ نشانے باز بیک وقت ملوث تھے۔

جرم کے نشانات مٹانے کی کوشش

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ غاصب اسرائیلی فوجی ریت کے ایک اونچے ٹیلے پر پوزیشن سنبھالے ہوئے تھے جہاں سے سب کچھ واضح نظر آ رہا تھا۔ امدادی گاڑیوں کی لائٹس اور انسانی ہمدردی کے نشانات بالکل نمایاں تھے۔ فوجیوں نے آگے بڑھتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کے درمیان پہنچ کر انتہائی قریب سے گولیاں ماریں۔ قتلِ عام کے بعد اس جگہ کو بلڈوز کر دیا گیا تاکہ جرم کے نشانات مٹائے جا سکیں۔ بعد ازاں اس مقام پر جنوبی غزہ میں ‘موراگ موری’ نامی سکیورٹی راہداری تعمیر کی گئی اور امریکہ و غاصب اسرائیل کے تعاون سے چلنے والے ایک نام نہاد امدادی ادارے کا مرکز قائم کر دیا گیا۔

قانونی موقف اور عالمی ردعمل

مرکز برائے آئینی حقوق کی وکیل کیتھرین گالاگھر نے اس تحقیق کو انتہائی ٹھوس اور دل دہلا دینے والا قرار دیا ہے۔ دوسری جانب غاصب اسرائیلی فوج نے ان مخصوص سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا اور پرانی داخلی رپورٹ کا سہارا لے کر اسے ‘جنگی علاقہ’ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی۔

اس مکمل تحقیقاتی رپورٹ کو 24 فروری کو برطانوی پارلیمنٹ (ویسٹ منسٹر) میں ایک خصوصی تقریب کے دوران پیش کیا جا رہا ہے، جس کا اہتمام ‘برطانوی فلسطینی کمیٹی’ نے کیا ہے۔

تصویری دستاویزی ثبوتوں نے اسرائیلی جھوٹ بے نقاب کر دیا

نیویارک ٹائمز نے اپریل سنہ 2025 کے آغاز میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں رفح کے علاقے تل السلطان میں ایمبولینسوں اور سول ڈیفنس کی گاڑیوں کو نشانہ بناتے اور عملے کو قتل کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو ایک شہید مسعف (ایمرجنسی ورکر) کے موبائل سے ملی تھی جس کی لاش اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی تھی۔ ویڈیو سے ثابت ہوتا ہے کہ ہلال احمر کی گاڑیاں اور اہلکاروں کے لباس واضح طور پر شناخت شدہ تھے اور وہ زخمیوں کو بچانے کے لیے گاڑیوں سے اترے تھے کہ اچانک ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹوں سے بھی یہ تصدیق ہوئی کہ زیادہ تر امدادی کارکنوں کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan