(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ جزیرہ نما النقب کے علاقے میں واقع ترابین گاؤں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران 24 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جبکہ 87 ٹریفک جرمانے عائد کیے گئے اور 23 عمارتوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
قابض اسرائیلی پولیس نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ ترابین میں نام نہاد نئے نظام کی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے، جس کی نگرانی پولیس کمشنر دانی لیوی اور نام نہاد وزیر برائےقومی سلامتی ایتمار بن گویر کر رہے ہیں۔ اس کارروائی میں پولیس کے سینکڑوں اہلکار، بارڈر گارڈ فورس اور اس کی خصوصی یونٹس شریک ہیں، جبکہ اس تمام کریک ڈاؤن کو جھوٹے طور پر سکیورٹی کے فروغ اور نظم و ضبط کے قیام کا نام دیا جا رہا ہے۔
اس مہم کے نتیجے میں اب تک 24 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں 4 کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ان پر پتھراؤ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ 87 ٹریفک خلاف ورزیاں درج کی گئیں اور 23 عمارتوں کو مسمار کرنے کے تحریری نوٹس جاری کیے گئے۔
قابض اسرائیلی پولیس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی ان پرتشدد سرگرمیوں کو مزید تیز کرے گی اور جسے وہ تشدد اور نظم میں خلل قرار دیتی ہے۔ اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ایسے وقت میں جب علاقے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سکیورٹی اداروں پر مقامی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا دینے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
ترابین میں اب بھی شدید تناؤ کی کیفیت برقرار ہے، جہاں پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے اور مقامی باشندے ان اقدامات کو مسلسل اشتعال انگیزی قرار دے رہے ہیں۔
گاؤں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ یلغاریں حالات کو بھڑکانے اور عوام کو اکسانے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ ایتمار بن گویر کے سیاسی اور انتخابی مفادات کو پورا کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ نام نہاد وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر اور قابض اسرائیلی پولیس کے سربراہ دانی لیوی اتوار کے روز خود قابض اسرائیلی فورسز کے ہمراہ ترابین بلدہ میں موجود تھے۔
قابض اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران ہنگامے پھوٹ پڑے جس پر فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے اقدامات کیے، تلاشیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے نام پر پورے گاؤں کا محاصرہ کر لیا، تاہم مقامی باشندوں نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا۔
