غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اور مجاہدین کے خلاف جارحیت میں ملوث “نام نہاد ایجنٹ” درحقیقت قابض اسرائیل کے ساتھ مکمل ہم آہنگی، اس کے ایجنڈے کی تکمیل اور باہمی تعاون کا حصہ ہیں۔
ایک بیان جاری کرتے ہوئے ابو عبیدہ نے کہا کہ یہ بزدل آلہ کار صرف قابض صہیونی فوج کے زیرِ تسلط علاقوں اور اس کے ٹینکوں کے سائے میں ہی بہادری دکھاتے ہیں، شہریوں کے خلاف غداری، طاقت کا استعمال اور بھوک و محاصرے سے نڈھال مزاحمت کے ہیروز پر حملہ کرنا مردانگی نہیں بلکہ اپنی اوقات ثابت کرنے کی ایک ناکام اور مایوس کن کوشش ہے۔
القسام بریگیڈز کے ترجمان نے ان ایجنٹوں کو “ابو رغال کی اولاد” اور قابض دشمن کے شکاری کتے قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ قابض اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے لیے بہت جلد ایک “سیاہ انجام” منتظر ہے۔
ابو عبیدہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان ضمیر فروشوں کا انجام قتل اور حتمی تباہی ہے؛ دشمن انہیں ہماری قوم کے انصاف سے نہیں بچا سکے گا اور ہماری پاک سرزمین پر ان کی بدبودار لاشوں کو قبول کرنے کے لیے قبریں تک نہیں ملیں گی۔
اسی تناظر میں ابو عبیدہ نے “رفح کی گھاٹیوں میں محصور” القسام کے جری جوانوں کو سلام پیش کیا اور محاصرے و بھوک کے باوجود ان کے ثابت قدم رہنے اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے کے بجائے “شہادت” کا انتخاب فلسطینی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کی داستانیں آنے والی نسلوں کو پڑھائی جائیں گی جبکہ ان کے نام عظمت کے صفحات پر نقش ہوں گے۔
قبل ازیں الجزیرہ چینل کے پروگرام “ما خفي أعظم” کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے اندر قابض اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے اور ایجنٹ ملیشیاؤں کے براہِ راست تعاون سے فلسطینیوں کے قتلِ عمد کی وارداتیں کی جا رہی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق غزہ میں سرگرم بعض مسلح ملیشیاؤں اور قابض دشمن کی خفیہ ایجنسی کے درمیان براہِ راست گٹھ جوڑ ہے، جس کے تحت قابض اسرائیلی فوج کی چھتری تلے فلسطینی سکیورٹی اداروں کے افسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس رپورٹ میں ایک گرفتار ایجنٹ کے اعترافی بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے جو 14 دسمبر کو وسطی گورنری میں انٹرنل سکیورٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل احمد عبدالباری زمزم (ابو المجد) کی شہادت کے واقعے میں ملوث تھا۔
اعترافی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ایجنٹ نے براہِ راست ایک اسرائیلی انٹیلی جنس افسر سے احکامات وصول کیے اور آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات نشر کرنے کے لیے اپنے لباس پر ایک خفیہ کیمرہ بھی نصب کیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ان قاتلوں نے “یلو لائن” کے پیچھے قابض اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر عسکری تربیت حاصل کی تھی، جس میں سائلنسر لگے پستولوں کا استعمال اور الیکٹرک بائیک پر نقل و حرکت شامل تھی۔ اس پورے عمل کی نگرانی اسرائیلی افسران کر رہے تھے جبکہ ڈرون طیارے انہیں فضائی رہنمائی فراہم کر رہے تھے۔
معلومات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ شہید لیفٹیننٹ کرنل زمزم جنگ کے دوران قابض اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والی ملیشیاؤں کے خلاف کارروائیوں کے انچارج تھے اور انہوں نے ان گروہوں میں دراندازی کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، اسی لیے وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے براہِ راست نشانے پر تھے۔
مزید برآں تحقیقات سے پتہ چلا کہ ان ملوث ملیشیاؤں میں درجنوں مسلح افراد شامل ہیں جو قابض دشمن کی حفاظت میں مزاحمتی سرنگوں کی جاسوسی، مطلوب شخصیات کے قتل، امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار اور مطلوبہ افراد کو دھوکے سے پکڑ کر دشمن کے حوالے کرنے جیسی مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
غزہ میں ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ قتل کی اس واردات میں ملوث تین افراد میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ ایک اسرائیلی افسر نے انہیں اسلحہ، آلات، مواصلاتی ذرائع اور ہدف کی نقل و حرکت کی معلومات فراہم کی تھیں۔ اس ذریعے نے تصدیق کی کہ یہ آپریشن قابض اسرائیل کے ساتھ براہِ راست کوآرڈینیشن کا نتیجہ تھا تاکہ مقامی آلہ کاروں کے ذریعے فلسطینیوں کی داخلی محاذ کو کمزور کیا جا سکے۔
