Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

القدس میں انروا دفتر کی تخریب پر عالمی قانونی کارروائی کا خدشہ

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کے بلڈوزروں کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور روزگار کے ذمہ دار ادارے ‘انروا’ کا ہیڈ کوارٹر مسمار کیے جانے کے تقریباً تین ہفتے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے قابض وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایک انتہائی سخت لہجے میں خط لکھا ہے جس میں اس کمپاؤنڈ کی مسماری کے فیصلے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

انتونیو گوتیریس نے اپنے مکتوب میں اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر اس کمپاؤنڈ پر قبضہ کیا ہے جو کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا کہ اگر قابض اسرائیل نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اس صورت میں ایک قانونی تنازع پیدا ہو سکتا ہے جسے ہالینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف میں لے جایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے بھاری مشینری کے ساتھ کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر اس کی اکثر عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے جن میں دفاتر، گودام، ورکشاپس اور غذائی ذخائر کے مراکز شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مرکزی عمارت کو براہِ راست مسمار یا اس پر دھاوا نہیں بولا گیا لیکن بعد ازاں وہاں لوٹ مار کی گئی، نیز سنہ 2026ء میں 25 جنوری کو لگنے والی آگ سے بھی اسے نقصان پہنچا ہے۔

انتونیو گوتیریس نے اس واقعے کے دوران مقبوضہ بیت المقدس کے نائب میئر کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شیخ جراح کمپاؤنڈ سنہ 1952 ءسے اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہ فلسطینی علاقوں میں انروا کی سرگرمیوں کا ایک اہم ترین لاجسٹک مرکز ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت قابض اسرائیل اقوام متحدہ کے اثاثوں کی حفاظت اور اس کے عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بلڈوزروں کے پہنچنے سے قبل ہی 12 اور 13 جنوری سنہ 2026ء کو قابض اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں انروا کے ہیلتھ سینٹر میں داخل ہوئے اور اسے 10 فروری سنہ 2026ء میں تک عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔

انتونیو گوتیریس کے مطابق مشرقی بیت المقدس میں انروا کی تنصیبات کو کام روکنے اور پانی و بجلی کی سپلائی منقطع کرنے کے نوٹس بھی موصول ہوئے ہیں جس سے ان کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قلندیہ میں انروا کے ٹریننگ سینٹر کی بجلی 28 جنوری سنہ 2026ء کو منقطع کر دی گئی تھی جس کے باعث فنی شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والے 300 سے زائد فلسطینیوں کی تربیت رک گئی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کے قانون میں تبدیلی کے باوجود انروا کے کام سے متعلق قانونی ڈھانچہ اب بھی برقرار ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے مراعات اور استثنیٰ کے سنہ 1946 کے کنونشن کے تحت تنظیم اور اس کے عملے کو استثنیٰ فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ مکتوب جنرل اسمبلی کے صدر اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے قابض اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی درستی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

واضح رہے کہ 28 اکتوبر سنہ 2024 کو قابض پارلیمنٹ ‘کنیسٹ’ نے دوسری اور تیسری خواندگی کے بعد ایک قانون منظور کیا تھا جس کا مقصد قابض ریاست کے زیرِ انتظام علاقوں میں انروا کی سرگرمیوں کو ختم کرنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan