Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

القدس فاؤنڈیشن کی سلوان کے محلہ البستان کو بے دخلی سے بچا نے کی ہنگامی عالمی اپیل

مقبوضہ بیت لمقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے ایک ہنگامی مہم کے ذریعے وسیع پیمانے پر عرب، اسلامی اور فلسطینی مہم چلانے کی اپیل کی ہے تاکہ مسجد اقصیٰ کے جنوب میں واقع قصبہ سلوان کے محلے البستان کے باسیوں کی نصرت کی جا سکے اور قابض اسرائیل کی جانب سے انہیں بے گھر کرنے کی مجرمانہ کوششوں کو روکا جا سکے۔ ادارے نے زور دے کر کہا ہے کہ البستان کا معاملہ مسجد اقصیٰ پر ہونے والے حملوں کے ساتھ ساتھ بیت المقدس میں مزاحمت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

القدس فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اگر البستان سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو خاموشی سے گزرنے دیا گیا تو یہ مرکزِ بیت المقدس کو یہودیانے کی ایک ایسی سازش ثابت ہوگی جو اپنی اہمیت اور اثرات کے لحاظ سے حارۃ المغاربہ کی تباہی سے کم نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا خطرناک ریکارڈ قائم کرے گا جس سے شہ پا کر قابض اسرائیل دیگر محلوں میں بھی بے دخلی کے تجربات دہرانے کی جرات کرے گا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے فروری کے آغاز میں البستان کے مکینوں کو مکانات مسماری کے 14 نوٹس بھیجے تھے، جس کے بعد مزید 4 نوٹس جاری کیے گئے، یوں مسماری کے نوٹسز کی کل تعداد 18 ہو گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر کی مدت آنے والے رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں ختم ہو رہی ہے۔ یہ سنہ 2008ء میں شروع ہونے والی مسماری کی مہم کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی لہر ہے، جس کا مقصد اس پورے علاقے کو شاہی باغ کے نام پر ایک صہیونی توراتی پارک میں تبدیل کرنا ہے۔

ادارے نے وضاحت کی کہ مسماری کے نوٹسز کی یہ وسیع لہر بیت المقدس میں عرب فلسطینی شناخت کو مٹانے اور اس کی جگہ ایک توراتی آباد کار شناخت کو مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ قابض اسرائیل کی میونسپلٹی اس محلے میں ملکیت کے کسی سابقہ تنازع یا آباد کاروں کی ملکیت کے دعوے پر انحصار نہیں کر رہی، بلکہ وہ فلسطینی جغرافیے پر محض توراتی داستانیں تھوپ رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ جگہ حضرت داؤد علیہ السلام کا باغ تھی، تاکہ یہاں ایک پارک بنا کر ان اصل باشندوں کو وہاں سے نکال دیا جائے جو یہاں پیدا ہوئے اور زندگی گزاری۔

بیان میں البستان کے باسیوں کی 18 سالہ طویل جدوجہد اور صمود و استقامت پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو درجنوں عمارتوں کی مسماری کے باوجود اس مٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مکانات کی دوبارہ تعمیر کی، بعض تباہ شدہ حصوں کو قابض اسرائیل کی سفاکیت کے گواہ کے طور پر میوزیم میں بدلا، زمین پر باقی رہنے کے لیے عارضی کینٹینر (کرفان) لگائے اور گرفتاریوں، نظر بندیوں اور بچوں پر ہونے والے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ حی البستان کے احتجاجی خیمے کا تجربہ بھی ایک مثال ہے جو عوامی تحریک کا عنوان بنا، جسے بعد ازاں قابض اسرائیل نے گرا دیا اور اسے دوبارہ لگانے کی ہر کوشش کو طاقت سے کچل دیا۔

قدس فاؤنڈیشن نے تمام فعال تحریکوں، رائے عامہ کے رہنماؤں، عرب و اسلامی اقوام اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے اپیل کی ہے کہ سلوان اور حی البستان کو بچاؤ کے عنوان سے ایک بھرپور عوامی، قانونی اور میڈیا مہم شروع کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ محلہ اب اس جبری بے دخلی کے خلاف فرنٹ لائن بن چکا ہے جو سلوان کے چھ دیگر محلوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ قابض اسرائیل کی جانب سے اپنی پالیسیوں کو تیز کرنے اور زمینی حقائق مسلط کرنے کا سیزن ہوتا ہے، اس لیے اسے مسجد اقصیٰ، البستان اور تمام متاثرہ علاقوں میں رباط اور دشمن کے مقابلے کا مہینہ بنانا ضروری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر قابض اسرائیل البستان کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس سے شیخ جراح محلے کو ہڑپ کرنے کی کوششوں کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ وہاں اب تک جو کامیابیاں ملی ہیں ان کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حی البستان کو ایک مشترکہ قومی مسئلے کے طور پر نہیں اپنایا جاتا۔

بیان کے اختتام پر بیت المقدس میں عرب اور اسلامی حق اور محلے کے باسیوں کے اپنی زمین و مکانات پر حق پر قائم رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسماری اور حملوں کے دباؤ میں آ کر کسی بھی دھوکہ دہی پر مبنی تصفیے کے خلاف خبردار کیا اور اپیل کی کہ بے دخلی کے ان منصوبوں کے خلاف مزاحمت کو محض بیانات کی حد سے نکال کر موثر میدانی تحریک میں بدلا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan