غرب اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی شہری شاکر فلاح احمد الجعبری شہید ہوگئے جس کے بعد قابض صہیونی فوجیوں نے اس کا جسد خاکی بھی تحویل میں لے لیا۔
فلسطینی جنرل اتھارٹی برائے سول امور نے وزارت صحت کو اطلاع دی کہ الجعبری اس وقت شہید ہوئے جب قابض اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل کے جنوب میں حارہ الجعبری کے علاقے خلہ حاضور میں ان کی گاڑی کے اندر براہ راست گولیاں ماریں۔ بعد ازاں قابض فوجی زخمی کو اپنے ساتھ لے گئے اور گاڑی موقع پر ہی چھوڑ دی۔
بعد میں قابض اسرائیلی فوج نے اپنے اس دعوے سے پسپائی اختیار کر لی جس میں کہا گیا تھا کہ شہری نے مبینہ طور پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی تھی۔ قابض فوج نے گذشتہ شب اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک فلسطینی کو اس الزام میں نشانہ بنایا کہ وہ شہر میں فوجیوں کو کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اسی تناظر میں فلسطینی ریڈ کراس نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ قابض افواج نے اس کے طبی عملے کو الخلیل کے وسطی علاقے خلہ حاضور میں ایک زخمی نوجوان تک پہنچنے اور اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے سے روک دیا۔
دوسری جانب عبرانی چینل 14 نے دعویٰ کیا کہ قابض افواج نے الخلیل کے محلہ الجعبری میں ایک نوجوان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ مبینہ طور پر گاڑی چڑھانے کی کارروائی کی کوشش کر رہا تھا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوا۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ نوجوان کو الخلیل کے جنوب میں واقع خلہ حاضور کے علاقے میں قابض اسرائیل کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق قابض افواج نے ایمبولینس کو زخمی تک پہنچنے سے روک دیا جس کے باعث بروقت علاج ممکن نہ ہو سکا اور یہی سفاکیت اس کی شہادت کا سبب بنی۔
