Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا رفح کراسنگ سے نقل و حرکت میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ

نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ شہریوں کو بین الاقوامی قانون کی شقوں کے مطابق رضاکارانہ اور محفوظ طریقے سے غزہ سے نکلنے اور واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے غزہ میں انسانی امدادی سامان مناسب مقدار میں داخل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ رفح کراسنگ اور دیگر تمام کراسنگز پر رکاوٹوں کو کم کیا جانا ناگزیر ہے۔

اسی تناظر میں مقبوضہ فلسطینی زمین میں اقوام متحدہ کے مقیم رابطہ کار رامز الا کبروف نے کہا کہ رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھولنا ایک اہم قدم ہے جو سیز فائر کے پہلے مرحلے کے تحت طے پانے والے معاہدوں سے ہم آہنگ ہے۔

رامز الا کبروف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی رسائی میں محفوظ اور پائیدار انداز میں اضافہ کرنے کے لیے مزید کوششیں کی جانی چاہئیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں طبی انخلا کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد مریض اور ان کے ساتھ موجود افراد براہ راست مصر روانہ ہوئے جبکہ دیگر افراد قابض اسرائیل کے کنٹرول میں موجود کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے سفر کر گئے۔

اسٹیفن دوجاریک نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے طبی انخلا سے متعلق کارروائیوں اور سڑکوں کی صورتحال جانچنے کے لیے پیشگی اقدامات انجام دیے۔ انہوں نے بتایا کہ دفتر برائے انسانی امور کی ہم آہنگی نے اقوام متحدہ کے اداروں اور شراکت داروں کے تعاون سے خان یونس میں ناصر ہسپتال کے اندر ایک استقبالی علاقہ قائم کیا ہے جہاں نفسیاتی اور سماجی معاونت تحفظ خوراک معلومات اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ رفح کراسنگ کے ذریعے واپس آنے والوں کی مدد کی جا سکے۔

انہوں نے گذشتہ دو دنوں کے دوران غزہ میں تشدد کے واقعات کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ شہریوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور قابض اسرائیل کی فضائی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

رفح کراسنگ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان شہریوں کے داخلے اور اخراج کا واحد راستہ ہے اور یہ شدید انسانی بحران کے دوران عوامی مشکلات کم کرنے کی انسانی کوششوں میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

رفح کراسنگ کی بحالی سیز فائر کے پہلے مرحلے کے دائرے میں عمل میں آئی ہے جو قابض اسرائیل کی جانب سے ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی جارحیت کے بعد ممکن ہوئی۔ ان حملوں میں بے شمار شہری شہید اور زخمی ہوئے جس کے نتیجے میں خوراک ادویات اور طبی امداد تک محفوظ رسائی کی ضرورت مزید بڑھ گئی۔

اقوام متحدہ اور انسانی امدادی اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ رفح کراسنگ اور دیگر کراسنگز کے ذریعے شہریوں اور امدادی سامان کی آزادانہ آمدورفت انسانی مصائب میں کمی اور موجودہ مرحلے میں کسی حد تک استحکام کے لیے فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan