Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے اسرائیل کے متنازع قانون کو نسل پرستی کی عکاسی قرار دے دیا

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سرکاری ترجمان سٹیفن ڈوجاریک نے کہا ہے کہ فلسطینی اسیران کی سزائے موت سے متعلق قابض اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے منظور کردہ قانون پر عالمی ادارے کا موقف بالکل واضح ہے اور وہ ہر قسم کی سزائے موت کو مسترد کرتا ہے۔

اپنی روزانہ کی بریفنگ کے دوران سٹیفن ڈوجاریک نے مزید کہا کہ اس قانون کی امتیازی نوعیت اسے خاص طور پر ظالمانہ اور متعصبانہ بناتی ہے۔ انہوں نے قابض اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے سے پیچھے ہٹ جائے اور اس پر عمل درآمد نہ کرے۔

بریفنگ کے آغاز میں ترجمان نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے اعداد و شمار پیش کیے، جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ کے نتیجے میں علاقائی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 3.7 فیصد سے 6 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کا مطلب 120 سے 294 ارب ڈالر تک کا نقصان ہے۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ بے روزگاری کی شرح میں چار فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 36 لاکھ ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ خطے کے کئی ممالک میں انسانی ترقی کے اشاریوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے باعث مزید 40 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں۔

غزہ کی پٹی کے حوالے سے سٹیفن دوجارک نے وضاحت کی کہ انسانی ہمدردی کی کوششیں جاری ہیں۔ رفح گزرگاہ کے ذریعے ان بچوں کی واپسی میں سہولت فراہم کی گئی ہے جنہوں نے غزہ کی پٹی سے باہر علاج کروایا تھا، جبکہ ان مریضوں کو باہر منتقل کیا گیا ہے جن کے لیے مقامی طور پر طبی سہولیات میسر نہیں تھیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیاں بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق افراد کی محفوظ اور باوقار نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر اصرار کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی کے سامان کی کمی کے باعث عارضی پناہ گاہوں میں خارش سمیت جلد کی بیماریوں اور چوہوں کی بھرمار میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ضروری سامان کی فراہمی کے لیے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

لبنان کے بارے میں ترجمان نے بلیو لائن پر فائرنگ کے تبادلے اور فوجی آپریشنز کے دائرہ کار میں اضافے کے نتیجے میں بگڑتی ہوئی انسانی اور سکیورٹی صورتحال پر خبردار کیا اور بتایا کہ ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث رسائی میں مشکلات کے باوجود انسانی ہمدردی کے ادارے خوراک اور بنیادی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی امن فوج کے اہلکاروں کے جانی نقصان کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

سٹیفن ڈوجاریک نے بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام اور شہریوں و اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

لبنان میں دریائے لیطانی تک گہرائی میں دراندازی کے حوالے سے قابض اسرائیلی حکام کے بیانات پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان کو دوسرا غزہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ انہوں نے لبنانی سرزمین کی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکومت ہی اپنی سرزمین پر اسلحہ رکھنے کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

ایک الگ تناظر میں سٹیفن ڈوجاریک نے نیویارک میں فلسطینی نژاد امریکی کارکن نردین کسوانی کے قتل کی کوشش کو ناکام بنانے کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ان حکام کی مشکور ہے جنہوں نے اس منصوبے کو عمل درآمد سے پہلے ناکام بنایا۔ انہوں نے تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کو یکسر مسترد کرنے کے عالمی ادارے کے موقف کا اعادہ کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan