Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ: غزہ کے دس لاکھ بچوں کو فوری نفسیاتی و سماجی مدد درکار

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اور دو سال سے زائد عرصے پر محیط قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے اثرات سے ابھی تک سنبھل نہیں سکی ہے، جبکہ محاصرے کے تسلسل اور نقل مکانی، طبی نظام کی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

“اقوام متحدہ کی نیوز” (یو این نیوز) کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے دس لاکھ سے زائد بچوں کو تشدد اور اپنوں کو کھونے کے دو سالہ کرب کے بعد اب نفسیاتی اور سماجی مدد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے بہبودِ آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) میں نوجوانوں کے پروگرام کی عہدیدار سیما العلمی نے بتایا کہ 96 فیصد بچے یہ محسوس کرتے ہیں کہ موت ان کے بالکل قریب ہے۔

سیما العلمی نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک نفسیاتی پریشانی نہیں بلکہ “بڑے پیمانے پر نفسیاتی صحت کی ہنگامی صورتحال” ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ 61 فیصد نوجوان اور لڑکے لڑکیاں مابعد صدمہ تناؤ (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہیں، 38 فیصد ڈپریشن اور 41 فیصد بے چینی (اینگزائٹی) میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح ہر پانچ میں سے ایک بالغ شخص تقریباً روزانہ کی بنیاد پر خودکشی کے بارے میں سوچتا ہے۔

اسی تناظر میں اقوام متحدہ نے غزہ میں لڑکیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے بھی خبردار کیا ہے، جہاں بگڑتی ہوئی معاشی اور سماجی صورتحال اور بنیادی خدمات کے فقدان کے باعث کم عمری کی شادی اور قبل از وقت حمل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے بہبودِ آبادی فنڈ کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ 71 فیصد شرکاء نے 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کی اطلاع دی ہے، جبکہ ایک مختصر مدت کے دوران 14 سے 16 سال کی لڑکیوں کے نکاح کے 400 سے زائد اجازت نامے جاری کیے گئے، اور خدشہ ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

سیما العلمی نے وضاحت کی کہ بعض خاندان غربت، نقل مکانی اور بقا کی حکمت عملی کے طور پر، یا گنجان آباد پناہ گزین مراکز میں تحفظ کی فراہمی اور معاشی بوجھ کم کرنے کی خاطر لڑکیوں کی جلد شادی کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سنہ 2025ء میں درج کیے گئے حمل کے نئے کیسز میں سے 10 فیصد نوجوان لڑکیوں کے تھے، جو کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ایک اونچی شرح ہے۔ یہ صورتحال اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب صرف 15 فیصد طبی مراکز ہنگامی زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جس سے کم عمر ماؤں اور ان کے بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوام متحدہ نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ کم عمری کی شادی لڑکیوں کو تشدد کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی 63 فیصد لڑکیاں جسمانی، نفسیاتی یا جنسی تشدد کا شکار ہوئیں، جبکہ طلاق کی شرح اور شدید نفسیاتی دباؤ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ سیما العلمی نے تشدد سے بچ جانے والی لڑکیوں میں خودکشی یا خودکشی کی کوشش کے 100 سے زائد کیسز دستاویزی شکل میں محفوظ کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں بھی فوجی آپریشنز اور آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کے نتیجے میں صورتحال بگڑ رہی ہے، جس سے خاص طور پر مہاجر کیمپوں میں نقل مکانی ہوئی ہے اور نقل و حرکت پر پابندیوں، رکاوٹوں اور سکولوں کی بندش کی وجہ سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

سیما العلمی نے کہا کہ مغربی کنارے میں بچے اور نوجوان مسلسل دباؤ میں جی رہے ہیں، انہیں چھاپوں کا خوف رہتا ہے اور اپنے مستقبل و روزگار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جس سے ان میں “دیرینہ بے چینی اور عدم تحفظ کا مستقل احساس” پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نفسیاتی صحت اور رویوں پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ نوجوان اب فلسطین چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جبکہ غزہ اور مغربی کنارے میں بہت سے خاندان نفسیاتی صحت کے مقابلے میں صرف “زندہ بچ جانے” کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کی عہدیدار نے ایک مربوط ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا جو نفسیاتی مدد کو خوراک، صحت اور تعلیم کی خدمات سے جوڑے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ نقل مکانی، وسائل کی کمی اور سنگین حالات، بالخصوص غزہ میں، نفسیاتی صحت اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کوششوں کی راہ میں اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan